سورت: گجرات کے شہر سورت میں محض 10 ہزار روپے کے بقایا معاوضے کے تنازع نے ایک سنگین واقعے کو جنم دے دیا۔ پولیس کے مطابق ایک سابق اکاؤنٹنٹ نے مبینہ طور پر اپنے سابق مالک کو سبق سکھانے کے لیے ٹیکسٹائل مارکیٹ میں آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں 14 دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں اور تقریباً 24 سے 25 کروڑ روپے مالیت کا کپڑا اور دیگر سامان تباہ ہوگیا۔
یہ واقعہ 9 ستمبر کی رات سورت کے سارولی علاقے میں واقع شیام سنگینی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں پیش آیا۔ پولیس نے اس معاملے میں 33 سالہ ونود پنڈت ساولے کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ونود کا تعلق مہاراشٹر کے دھولے سے ہے اور وہ سورت کے ڈنڈولی علاقے میں رہتا تھا۔
پولیس کے مطابق ونود نے اپریل 2026 میں ٹیکسٹائل مارکیٹ کی ایک دکان میں اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے ملازمت شروع کی تھی۔ اس کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 30 ہزار روپے تھی۔ ملازمت چھوڑنے کے بعد اس نے تقریباً 10 ہزار روپے بقایا تنخواہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی رقم کے تنازع کے باعث وہ ناراض تھا اور مبینہ طور پر سابق مالک کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے ایک روز قبل ملزم نے ڈنڈولی علاقے کے ایک پٹرول پمپ سے تقریباً 150 روپے کا پٹرول خریدا۔ اس کے بعد وہ رات کے وقت شیام سنگینی ٹیکسٹائل مارکیٹ پہنچا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ چہرہ کپڑے سے ڈھانپے ہوئے اور ایک بیگ لے کر مارکیٹ کی اوپری منزل کی طرف جاتا دکھائی دیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نے دکانوں میں رکھے ساڑیوں اور دیگر کپڑوں کے پارسل پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی۔ پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد اس نے دوبارہ آگ لگائی، جس کے بعد کپڑے نے تیزی سے آگ پکڑ لی۔ کچھ ہی دیر میں آگ نے چھٹی منزل کی 14 دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مارکیٹ میں بڑی مقدار میں کپڑا اور پیکنگ کا سامان موجود ہونے کے باعث آگ تیزی سے پھیل گئی۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔ اس واقعے میں تقریباً 24 سے 25 کروڑ روپے مالیت کے سامان کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
پولیس نے ملزم تک پہنچنے کے لیے مارکیٹ اور آس پاس کے علاقوں میں نصب 1500 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کی۔ مارکیٹ میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا، جس کے بعد اس کی شناخت ونود ساولے کے طور پر ہوئی۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزم سورت سے فرار ہوکر راجستھان اور پھر ایودھیا چلا گیا تھا۔ بعد میں سورت واپس آنے کی اطلاع ملنے پر کرائم برانچ نے کارروائی کرتے ہوئے اسے ڈنڈولی علاقے سے گرفتار کرلیا۔
پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے کہ آگ لگانے کے اس واقعے میں ملزم کے ساتھ کوئی دوسرا شخص بھی شامل تھا یا نہیں۔ پولیس کے مطابق بظاہر 10 ہزار روپے کے بقایا معاوضے کے تنازع سے شروع ہونے والا معاملہ کروڑوں روپے کے نقصان تک پہنچ گیا۔