آج ضلعی عدالت نے کیرالہ کے صحافی صدیق کپن سمیت 4 افراد کی تحویل میں ۹۰ دنوں کا اضافہ کردیاہے
یہ مقدمہ ہے کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کا، جوکہ درحقیقت Practical Journalist عملی صحافی ہیں، انہیں صحافتی سرگرمی کے دوران ہی گرفتار بھی کیاگیاہے، ۵ اکتوبر کو اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں رپورٹنگ کرنے جب ہاتھرس جا رہے تھے تب یوگی آدتیہ ناتھ کی فاشسٹ اترپردیش سرکار نے انہیں گرفتار کرلیا اور ان پر UAPA جیسی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ قائم کرکے انہیں جیل میں ڈال دیا، صدیق ۵ اکتوبر سے جیل میں بند ہیں… ان کے ساتھ عتیق الرحمٰن، مسعود عالم بھی قید ہیں… ان سبھی کی گرفتاری میں عدالت کے جج صاحب نے مزید ۹۰ دنوں کا اضافہ کردیا ہے
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اسپیشل ٹاسک فورس اترپردیش راکیش پالیوال نے عدالت میں یہ بیان داخل کیا کہ کیرالہ میں متعلقہ ملزمین کے مجرمانہ روابط سے متعلق چھان بین میں ابھی مزید وقت لگے گا اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے ان کے تعلقات کے متعلق مزید انفارمیشن جمع کرنا ہے، ان معلومات اور جانچ کو یقینی بنانے کے لیے اسپیشل ٹاسک فورس یہ چاہتا ہے کہ صدیق کپن اور دیگر ملزمین ابھی کسٹڈی میں ہی رہیں, جب یوگی نے اسپیشل ٹاسک فورس بنائی تھی تب ہم۔نے کچھ لکھا تھا یاد کیجیے گا، ٹاسک فورس کا یہ رجحان بھی یاد رکھیے گا
اس بنیاد پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج انل کمار پانڈے نے مزید ۹۰ دنوں کی حراست کی اجازت دے دی_
آپ کو یاد ہوگا کہ ایک بدتمیز اور نفرت انگیز سرکاری صحافی ارنب گوسوامی کو جب ایک واقعی مجرمانہ معاملے میں گرفتا کیا گیا تھا تب اسے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن کیرالہ کا یہ صحافی جو یوگی حکومت کے جنگل راج کے خلاف صحافت کرنے کے دوران گرفتار ہوا تو خود سپریم کورٹ نے صدیق کو ضمانت نہیں دی اور معاملہ نچلی عدالت میں بھیج دیا جہاں ۵ اکتوبر سے گرفتار ان مظلوموں کی حراست کو عدالت نے آج ۹۰ دنوں کے لیے بڑھا دیا ہے، یہ سیکولر بھارت کی عدالت ہے، ملک میں نسل پرست ناگپوری سامراج کے فاشسٹ برہمن واد کی حکمرانی ہے
ہم اب یہ سمجھنے پر مجبور ہوچکےہیں کہ کیا ہمارے ملک کی ظاہری عدالتوں کے پس پردہ بھی کوئی باطنی عدالتی کارفرما ہے؟ شرجیل امام، خالد سیفی، عمر خالد، آصف اقبال، گل فشاں سے لیکر صدیق کپن تک، آخر انصاف کا دوہرا معیار کیوں ہے؟ کپل مشرا نے کھلے عام فساد کرایا، شاہین باغ میں کپل گجر نے گولیاں چلائیں، جے این یو پر بھاجپا کی طلباء تنظیم کی ایکٹوسٹ کومل شرما نے غنڈہ گردی کی، ایسے غنڈے آزاد، ایسے عسکریت پسند آزاد سماج میں انتہاپسندی اور عسکریت پھیلانے کے لیے سانپوں کی طرح گھوم رہےہیں، لیکن جن کے ہاتھوں میں ہمیشہ قلم، دوات، کاغذ، کتاب، تھی وہ مسلسل سلاخوں کے پیچھے کیوں ہیں؟
ہم کو آپکے جھوٹے وعدوں اور پرفریب دعووں پر بالکل یقین نہیں رہا، ہمیں اس نسل پرست برہمنی ہندوتوا کے فاشسٹ استعمار کو تاریخ میں ہٹلر اور گوڈسے کی صف میں دیکھنے کا انتظار ہے، اس دور کو جب بھی پڑھاجائے گا ایک باب عدالتی معیار کا بھی ہوگا اور قانون کے طلباء تاریخ کے اساتذہ سے پوچھتے ہوں گے: ” عدالتوں میں بھی انصاف کیوں نہیں تھا؟ ”
صدیق کپن اور ان کے ساتھیوں کو سلام۔ سلامتی کے ساتھ واپسی کی دعائیں، ان کے اہلخانہ کو عزیمت کی سوغات، ایمانی اور انسانی یکجہتی کا پیغام _
✍🏻: سمیــع اللّٰہ خان
۵ جنوری بروز منگل ۲۰۲۱
ksamikhann@gmail.com