ڈومبیولی ( شارف انصاری ):- سی ایس ایم ٹی اسٹیشن کے قریب ایک برج حادثے میں 6 افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں تین ڈومبیولی کی خواتین شامل ہیں ۔ اپوروا ، پربھو (35) اور رنجنا تانبے (40) دونوں گوكلداس تیجپال (جی ٹی) ہسپتال میں نرس کے طور پر کام کر رہی تھی تو وہیں بھکتی شندے (40) یہ سینٹ جارج ہسپتال میں ملازمت پر تھی ۔ ایسی معلومات جی ٹی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مکند تائڈے نے دی ہے ۔ واقعہ ممبئی میں پیش آیا مگر اس کے شعلوں نے ڈومبیولی کے تین گھروں کے چراغ بجھا کر پورے ڈومببولی شہر میں صف ماتم بچھا دیا ہے۔
اپوروا، رنجنا اور بھکتی تینوں اچھی سہیلیاں تھی۔ تینوں ڈومبیولی مغرب میں رہتی ہے ۔ کام پر ساتھ مل کر جانا اور ساتھ ہی واپس آنا تھا ۔ ایک ساتھ ہی حادثے میں ہوئی موت نے ان کی دوستی کو ایک اور مثال دے دی ۔ اور تینوں ایک ساتھ حادثہ کا شکار ہوئی ۔ اپوروا کے ساتھ رنجنا تانبے اور بھکتی شندے تینوں جمعرات کی شام نائیٹ ڈیوٹی کے لئے ڈومبیولی سے ممبئی سی ایس ایم ٹی گئی ہوئی تھی۔ بھاگوت اس کے ساتھ جی ٹی ہسپتال میں کام کرنے جا رہے تھے۔ چاروں سی ایس ایم ٹی اسٹیشن پر اتر کر ہسپتال جانے کے لئے برج کے اوپر گزر رہے تھے ۔ اسی وقت فٹ اوور برج گر گیا ۔جس میں تینوں سہیلیوں کی موت ہوگئی جبکہ قسمت کے دھنی بھاگوت حادثے میں زخمی ہوئے ہے ان کا علاج جاری ہے ۔
رنجنا تانبے ڈومبیولی مغرب کے گنیش نگر سدھی، شیوساگر کمپلیکس میں اپنے ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ رنجنا تامبے ابھی غیر شادی شدہ تھی ۔ اس کی موت کے بعد خاندان میں ایک ماں اور ایک بھائی ہے ۔ اس واقعہ میں تین افراد کی موت سے ڈومبیولی میں شوگوار کا ماحول ہے ۔ لوگوں میں انتظامیہ کے تئیں
ناراضگی ہیں ۔ جمعہ کو دوپہر میں تینوں کی آخری رسومات ڈومیبولی مشرق کے شیو مندر شمشان بھومی شوگوار ماحول میں ادا کیا گیا ۔
اپوروا "بہترین نرس ایوارڈ ” سے نوازی گئی تھی
ڈومببولی مغرب کے ٹھاكرواڑی احاطے کے بیڈیكر گلی میں واقع ادئے راج سوسائٹی میں متوفیہ اپوروا پربھو 15 برسوں سے یہاں مکین تھی ۔ اپوروا پربھو یہ خاندان کی کفالت کا ذریعہ تھی ۔ اپوروا کی موت کے بعد شوہر ، ساس اور دو بچوں پر مشتمل خاندان باقی رہ گیا ہیں ۔اپوروا کے شوہر ابھئے پربھو اندھیرے کی ایک نجی اشتہاری کمپنی میں ملازمت کر رہے ہیں ۔ بیٹا گگنیش کلاس VII اور بیٹی چنمایا پانچویں جماعت میں پڑھتے ہیں ۔ گھر میں 70 سالہ ساس ہے ۔ اپوروا پربھو نے خاندان کو اکیلے ہی سنبھالا تھا ۔ ان کی موت کے بعد پورے خاندان پر دكھو کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ۔ اپوروا کو 26 جنوری کے روز ” بہترین نرس” کے ایوارڈ سے ریاستی حکومت کی جانب سے اعزاز دیا گیا تھا ۔ اپوروا ایک مثالی خاتون تھی ۔سوسائٹی کے ہر عوامی و فلاحی کام کی جوابداری سنبھالنے کے بعد ممبئی کے ہسپتال میں نرس کا کام کرتی تھی ۔ ایسی جانکاری ان کے پڑوس میں رہنے والی ایک خاتون نے دی ۔
پیشوں سے مری ہوئی بھکتی واپس لوٹیں گی کیاں ؟
بھکتی شندے ڈومبیولی مغرب کے اوم سائی دتت سوسائٹی میں گزشتہ 35 برسوں سے رہتی تھی ان کے بعد شوہر راجندر شندے، ساس اور 13 سالہ بیٹے اومكار شندے ہی خاندان میں ہیں ۔ بھکتی شندے کے شوہر راجندر شندے ایک کمپنی اوون مارکیٹنگ میں کام کرتے ہیں ۔ بیٹا اومکار سینٹ میری اسکول کے آٹھوویں جماعت کا طالب علم ہے ۔ بھکتی شندے کے 13 سالہ بیٹے اومکار نے اپنی ماں کو آخری رسومات کے دوران اگھنی دی ۔اس حادثے کے بعد سبھی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ وزیر اعلی نے جائے حادثہ پر پہنچ کر اقتصادی امداد دینے کا اعلان کیا مگر حکومت کے دیئے اس پیسے سے ہماری متوفیہ بھکتی واپس لوٹیں گی کیا ؟ اس طرح کے سوالات رشتہ داروں کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہے ۔ حکومت ان کے بچوں کی تعلیم اور گھر کے کسی رکن کو سرکاری ملازمت دے ایسی مانگ بھی رشتہ داروں نے انتظامیہ سے کی ۔ ان کے بعد اہل خانہ کی ذمہ داری کون سنبھالیں گا؟ اس تشویش میں رشتہ دار اور یہاں کے مکین ہیں ۔ ہر بار ایسا سانحہ ہونے کے بعد کاروائی کرنے کی یقین دہانی دی جاتی ہیں مگر اس بار حقیقت میں کاروائی کرو ایسی مانگ یہاں کے مکینوں نے کی ہے ۔ سركار کاروائی نہیں کرتی ہیں تو ہم برج پر چڑھ کر کاروائی کریں کیا ؟ ایسی ناراضگی دکھاتے ہوئے مشتعل رشتہ داروں نے سوال پوچھا ہے ۔ جس کا جواب اب حکومت کو دینا ہوگا ۔

