ممبئی کے لوگوں کی زندگی اتنی سستی نہیں ہے کہ ان سے کھلواڑ کیا جائے، شہر کے تمام پلوں کا دوبارہ آڈیٹ کرایا جائے
ممبئی: یہ شہر کارپوریشن اورحکومت کی مہربانیوں سے حادثات کا شہر بن گیا ہے۔ بی جے پی وشیوسینا کی بدعنوانیوں اور نکمے پن کی وجہ سے ممبئی کے لوگوں کو زندہ رہنا مشکل اور مرنا آسان ہوگیا ہے۔ مسلسل پلوں کے گرنے اور آگ لگنے کے حادثات میں ممبئی کے لوگ اپنی جانیں گنوارہے ہیں، لیکن اس بے شرم اور غیرذمہ دار حرکت کی کوئی ذمہ داری تک نہیں لی جارہی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اگر بی جے پی وشیوسینا میں ذرا بھی شرم باقی ہے تو وہ میئر اور میونسپل کمشنر کو فوراً برخاست کریں۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ممبر پارلیمنٹ اشوک چوہان نے کیا ہے۔
اشوک چوہان نے سوال کیا ہے کہ کیا بی جے پی وشیوسینا کے نزدیک ممبئی کے لوگوں کی زندگی اتنی سستی ہوچکی ہے کہ وہ اپنے نکمے پن کا انہیں شکار بنارہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن بدعنوانی کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ ۶ماہ قبل جس پل کا آڈیٹ کرکے پل کو محفوظ قرار دیا گیا تھا، وہی پل کل تاش کے پتوں کی طرح گرگیا، جس میں ۶لوگوں کی موت ہوگئی اور30 سے زائد لوگ شدید زخمی ہوگئے۔ اس پل کا آڈیٹ کس نے کیااور کیا اس آڈیٹ میں کمیشن لیا گیا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کے لوگوں کے برتھ سرٹیفیکٹ سے لے کر ڈیتھ سرٹیکفیٹ تک ہر جگہ بکاسور کی طرح پیسے کھائے جاتے ہیں۔ کارپوریشن کے اقتدار پر قابض نکمے لوگ اور حکومت اس طرح کے حادثات ہونے پر ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈال کر آزاد ہوجاتے ہیں۔ پھر نہ تو کبھی اس کی کوئی ذمہ داری طئے ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کارروائی۔ الفسٹن روڈ حادثہ معاملے میں ابھی تک کسی پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ کملا مل کی طرح نت نئی آتش زنی کے واقعات اور عمارتوں کے منہدم ہونے یا پلوں کے گرنے کے واقعات میں ممبئی کے لوگوں کی مسلسل اموات ہورہی ہیں۔
اشوک چوہان نے کہا کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں شیوسینا کے بدعنوان لیڈران کام کی کوالیٹی کو بہتر رکھنے کے بجائے کمیشن کھانے میں زیادہ مصروف ہیں، جو مسلسل ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے ان کے اندر اگر ذرا سی بھی شرم باقی ہو تو یہ میئر ومیونسپل کارپوریشن کو فوری طور پر برطرف کرتے ہوئے تمام فٹ اوور بریج کی دوبارہ آڈیٹ کریں۔ نیز اس حادثے کے ذمہ داروں پر سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔