ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانانِ ہندکے لئے واضح لائحہ عمل

ملک کے حالات صبرآزماہیں٬مرحلے سخت اوردشوار،اندیشےروزافزوں ٬مستقبل مبہم اورغیرواضح،لیکن راہ عمل متعین ہے،اوررہنمائی کے نقوش تابندہ تر۔ہمارا رہنما قرآن پاک ہے جس نے سخت ترین مصائب و مشکلات سے مقابلہ آرائی کے لئے ایسی دو چیزوں کے اپنانے کی تلقین کی ہے جو ہرکامیابی کی شاہ کلید ہیں! جن سے ہر بند دروازے کو کھولا جاسکتا اور ہر مشکل کو دورکیاجاسکتا ہے۔ دو ایسی صفات جو قوموں اور امتوں کے عروج بلکہ ان کی معراج کا ذریعہ ہیں اور جن کے ذریعے ابدی سعادتیں حاصل کی جاسکتی ہیں٬جن میں دنیا کی مشکلات پر قابو پانے کا نسخہ بھی ہے اور آخرت کے بلند مراتب حاصل کرنے کا طریقہ بھی ۔ وہ دو چیزیں ہیں صبر اورتقویٰ،قرآن پاک کی ان آیات میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔

(۱) ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ. وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنِ (سورہ انفال،آیت:۴۵،۴۶)
(اے ایمان والو ! جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو خوب یاد کرو،تاکہ کامیابی پاسکو،اور اللہ اور اس کے رسول کاحکم مانواور آپس میں نہ جھگڑوورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہیبت ختم ہو جائے گی اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔)

(۲) ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْاوَرَابِطُوْاوَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن (سورہ آل عمران،آیت:۲۰۰)
(اے ایمان والو!صبر اختیا ر کرو،مقابلے کے وقت ثابت قدمی دکھائو،محاذ پر ڈٹے رہو،اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں کامیابی ملے۔)

(۳) وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْن(سورہ حجرات آیت:۱۰) (اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیاجائے)
صبر اور تقوی کے نتائج کے سلسلے میں ارشاد فرمایا۔

(۱) اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ (سورہ یوسف،آیت:۹۰)
(حقیقت یہ ہے کہ جو شخص تقویٰ اور صبر سے کام لیتا ہے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔)

(۲) وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا(سورہ آل عمران،آیت:۱۲۰)
(اور اگر تم صبرکرو گے اور تقویٰ اختیار کروگے تو (دشمنوں)کی خفیہ تدبیر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گی۔)

(۳) وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًاo وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ (سورہ طلاق،آیت:۲،۳ )
(اور جو شخص تقویٰ اختیارکرتا ہے تو اللہ اس کے لئے ( مشکل میں)راستہ نکال دیتا ہے اور ایسی جگہ سے اس کو روزی عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہیں ہوتا)

صبرکا مفہوم بہت وسیع ہے،صبر طاعتوں پر جمنا بھی ہے،معاصی سے رکنا بھی،صبر مصائب کو برداشت کرنا بھی ہے اورخدا کی مرضی پر راضی رہنابھی۔صبر دشمنوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہنابھی ہے اور ان کی طرف سے آنے والی دشواریوں کوسہنا بھی،صبر ہی آغاز ہے٬صبر ہی انجام ہے،صبرراہ ہے٬رہنماہے٬اورثمرہ و نتیجہ بھی!صبر مکہ کی گلیوں میں بچھے ہوئے کانٹوں کی چبھن ہے،صبر فتح مکہ کے دن ظالم اور ستم گر انسانوں کی معافی ہے ۔صبر کی ایک جہت ’’ کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ قَدْ شَجُّوا وَجْہَ نَبِیِّھِمْ دَمًا‘‘ہے تو دوسری جہت اِذْھَبُوْا وَاَنْتُمُ الطُّلَقَاء۔صبر عزیز مصر کی تنگ و تاریک جیل ہے اور ایوب علیہ السلام کی باوفابیوی کا آنسو،صبربزدلی،کم ہمتی اور ’’ لب بند ، گوش بند‘‘ کا نام نہیں،صبر آہنی زنجیروں کے توڑ دینے اور سیلاب بلا خیز کا رخ موڑ دینے کا نام ہے٬جنہوں نے یہ سمجھا کہ صبرجھکنے،جھک جانے،سپر انداز ہونے، طاقت کی غلامی اور طاقتور کی چاپلوسی کرنے کا خوشنماعنوان ہے ۔انہوں نے صبر کاحقیقی مفہوم نہیں سمجھا،صبر تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ پر کامل یقین کے ساتھ بدر کے میدان میں تین سو تیرہ کی جماعت کو ایک ہزار کے مسلح لشکر کے سامنے بلند چٹان کی طرح کھڑا کردیتا ہے،صبر ہی معرکۂ حنین میں لوگوں کے فرار ہوجانے کے باوجود خدا کے پیغمبر کو میدانِ جنگ میں ثابت قدم رکھ کر اَنَا النَّبِیُّ لَاکَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدُالْمُطَّلِبْ کا نعرہ بلند کرواتا ہے۔
جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ان میں صبر کے اس وسیع مفہوم میں سے تین چیزوں پر عمل ضروری ہے۔

(۱) احکام و اوامر الٰہی پرجم جانا ۔مسلمانوں کے ساتھ بڑی مشکل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے طرز زندگی کو بندگی سے الگ کرلیا ہے اور ’’اسوۂ حسنہ‘‘ سے الگ ہوکر من چاہی زندگی گزارنے لگے۔عبادات٬اخلاق،معاملات ،معاشرت ہر ایک شعبہ میں ہم نے اس راہ کو اپنایا جو راہِ شریعت سے متصادم ہے اور اپنے قابل فخر سرمایہ سے صرف نظر کر کے مغرب کی تقلید پر کمر بستہ ہوگئے،ہمارا طرز و انداز پیغمبر اور صحابہ کے طرز زندگی سے میل نہیں کھاتا ،ہاں !اس کا رشتہ مغرب سے ضرور جڑا ہوا ہے،مغربی تہذیب و تمدن ہمارے لئے قابل فخر سرمایہ بن گیا اور اسی کی تقلید و اتباع کو ہم نے مقصد زندگی اور حاصل زیست بنالیا،،دین کا درد رکھنے والوں کے لئے یہ صورتحال سخت افسوسناک ہے ۔
بہت ضرورت ہے اس بات کی کہ مغرب کی تقلید سے توبہ کر کے ہم خدا تعالیٰ کے پاکیزہ دین کی طرف متوجہ ہوں اور دین و ایمان کے تقاضوں پر مضبوطی کے ساتھ عمل کریں۔

(۲) صبر دشمن کے مقابلے پر ڈٹ جانے کا نام ہے،ثابت قدمی صرف یہ نہیں ہے کہ میدانِ جنگ میں دشمن کے بالمقابل جماؤاور ٹھہراؤ ہو،بلکہ عام حالات میں بھی اپنے دشمنوں کو زیر کرنے اور انہیں دشمنی کے دائرہ سے نکال کر دوستی کے دائرہ میں داخل کرنے کے لئے کوئی مضبوط لائحۂ عمل بنانا اور اس پر جم جانا بھی ہے۔ اس وقت جو لوگ ہمارے دشمن بنے ہوئے ہیں انہیں دین سے قریب کرنے اور حقائق سے واقف کرانے کے لئے دیوانوں کی ایک ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو نفرت کے جواب میں محبت وخدمت اور دین کی دعوت کے نقشے بنائے اور صلہ کی پرواہ٬ستائش کی تمنا،نتائج کی آرزو ،مال و جاہ کی طلب سے الگ ہوکر خاموشی٬تندہی،جانفشانی اور ہمت و حکمت کے ساتھ مسلسل محنت کرے اور قرآنی و نبوی اصول دعوت کو اختیار کرتے ہوئے سچے دین کو نور ِ ہدایت سے محروم انسانوں تک پہنچائے،اس وقت ہماری مخالف اور حریف طاقتیں پوری یکسوئی،انہماک ،اور تندہی کے ساتھ محنت و کاوش کررہی ہیں،ان کا مقصد باطل،ان کے ارادے ناپاک اوران کے عزائم خطرناک ہیں،لیکن ان کی محنت٬اور مقصد کے لئے جدوجہد قابل داد ہے ۔ دوسری طرف دین حق کے ماننے والے اور نور ہدایت پاجانے والے،محنت کی راہ سے کترا رہے ہیں ان کے پاس ارادے ہیں نہ منصوبے،نہ عزائم نہ نشانے٬صرف جذباتی نعرے،پرجوش تقریریں،اور ایک غیر منظم بھیڑ ہے حالانکہ جذباتیت کے سہارے دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنا دیوانے کا خواب ہے،تمناؤں اور آرزوؤں سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔نعرے حقائق کا مقابلہ نہیں کرسکتے ،امیدیں آنے والے مصائب و مشکلات کو رفع نہیں کرسکتیں؂

غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
یقیں محکم،عمل پیہم،محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

انتقامی جذبات سے الگ ہٹ کر وقتی جوش و جذبے کو چھوڑ کر کوئی ٹھوس لائحۂ عمل٬خدمت اور دعوت کے سلسلے میں بنایاجائے اور حکیمانہ و مخلصانہ جدو جہد کی جائے تو پچیس تیس سالوں کے بعد بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے ۔اسی ہندوستان میں ملحدو لادین اکبر کے تخت پر محی الدین اورنگ زیب عالمگیرؒجیسے متقی،محتاط،جرأتمند اور صاحب بصیرت انسان کے بٹھانے تک جوحکیمانہ ،مخلصانہ،اورلگاتار جدوجہد حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے فرزندوں و جانشینوں نے کی اور تاریخ انسانی کا بے مثال خاموش انقلاب برپا کیا۔موجودہ حالات میں ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے اس میں عظیم نمونہ موجود ہے،پچھلے چند برسوں میں حضرت مجدد الف ثانی ؒکی روحانی اولاد اور ان کے سلسلۂ عالیہ کے عظیم شیخ طریقت حضرت مولانا سید محمدولی رحمانی نورﷲمرقدہ نے مختلف ملی مسائل کے سلسلے میں جو خاموش مخلصانہ خدمت کی اور اس کے جو مثبت اور غیر معمولی نتائج سامنے آئے اسے بھی دلیل راہ بنایاجاسکتا ہے۔

(۳) اوپر ذکر کی گئی دونوں باتوں پر عمل کے سلسلے میں آنے والے مصائب کا مردانہ وار مقابلہ بھی صبرکی ایک جہت ہے٬یہ سنت انبیاء ہے،اسوۂ پیغمبراں ہے٬معمولی مشقت پر ہمت ہارجانا ،تھوڑی سی مصیبت سے شکست حوصلہ ہوجانا،اور جان کے خطرے سے ایمان چھوڑ دینا ،کم ہمتوں اور اتھلے ظرف والوں کاطریقہ ہے ، جواں مرد تو وہ ہیں جو راہ حق میں آنے والی ہر مصیبت کو برضا و رغبت جھیل جائیں،باطل کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوجائیں،جھکیں مگرصرف اللہ کے آگے،اور جھکائیں اپنے دشمنوں اور حریفوں کو ،اور اس راہ میں جس قربانی کی ضرورت پیش آئے خوشی خوشی پیش کردیں؂

سب کچھ لٹا کے راہِ محبت میں اہل دل
یوں خوش ہیں جیسے دولتِ کونین پاگئے

••══༻◉ جاری ◉༺══••
تحریر:حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading