تجزیہ خبر:سعید پٹیل ‘جلگاوں
دہلی سے موصولا اطلاعات کے مطابق دہلی پولیس کے محکمئہ میں دھوبی ،خانساماں ، باغ کام مالی وغیرہ کاموں کے لۓ ملازمین کی بھرتی کی سات سو سات اسامیاں نکالی گئیں ہے۔ان نوکریوں کے لۓ تقریباً ساڑھے سات لاکھ عرضیاں آئ ہیں۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ عرض کرنے والوں میں ایم بی اے ،ایم سی اے ،ایم اے ،ایم ایس سی کامیاب نوجوانوں نے بھی مذکورہ بالا ملازمت کےلۓ عرضیاں دی ہیں۔اس سے پتہ چلتا ہےکہ ملک میں بیروزگاری کی صورتحال کتنی سنگین ہیں۔ملک میں کثیرتعداد میں بیروزگاری ہے ۔ایسی صورتحال میں نجی شعبے میں ملازمت کرنے کی بجاۓ سرکاری ملازمت جس میں تحفظ کی ضمانت ہے۔اس لۓ سرکاری نوکریوں کی طرف نوجوانوں کا جھکاؤ زیادہ ہیں۔دہلی پولیس محکمئہ میں دھوبی ،مالی کام اور کھانابنانے کے علاوہ اسی طرح کے مختلیف کام کرنے والوں کی ضرورت ہیں۔جس کےلۓ ضروری قابلیت دسویں تک کی تعلیم کی ہے۔لیکن تین لاکھ سے زاید ایم اے ،ایم ایس سی امیدواروں نے ،تین ہزار انجینئروں جبکہ بارہ سو ایم بی اے امیدوارں نے عرضیاں بھری ہیں۔جس میں اہم بات یہ ہےکہ تامل ناڈو ،کیرلہ جیسے ہزاروں کلومیٹر دور کی ریاستوں کے نوجوانوں نے بھی ان نوکریوں کے لۓ درخواستیں دی ہیں۔امتحان دینےوالوں کی کثیر تعداد کو دیکھتے ہوۓ محکمئہ پولیس دہلی نے امتحان کے درجے میں سختی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ اب سب انسپیکٹر کے عہدہ کے امتحان کے برابر ہوں گا۔اس سے یہ بات واضع ہوجاتی ہےکہ ملک بھر میں بیروزگاری کی صورتحال کس قدر سنگین بن چکی ہیں۔اس سے قبل بھی ملک کی بیروزگاری کی صورتحال کئ مواقعوں پر واضع ہوچکی ہیں۔حالاکہ نۓ سال میں تکنیک کے شعبوں میں روایتی روزگار کی جگہ نۓ روزگار کی امیدیں بھی سامنے آئ ہیں۔اس مسلہ پر سیاسی سوچ سے اپر اٹھ کر حل نکالا جانا ضروری ہوگیا ہے۔