مغربی بنگال کے بی جے پی ریاستی صدر دلیپ گھوش کے قافلے پر حملہ

کلکتہ 12نومبر(یواین آئی)مغربی بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش کے قافلے پرعلی پور دوار ضلع میں حملہ کی خبر سامنے آئی ہے ۔بی جے پی ذرائع کے مطابق گھوش حملے میں محفوظ پیں اور وہ جس گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھےوہ آگے نگل گئی تھی اس کے بعد حملہ ہوا ہے ۔جب کہ حملے میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ اس واقعے کے بعد مغربی بنگالکی سیاست گرم ہوگئی ہے۔ دلیپ گھوش نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ترنمول کانگریس کے لوگوں کا ہاتھ ہے ۔


مغربی بنگال کے بی جے پی صدر دلیپ گھوش اور پارٹی کے دیگر رہنما علی پوردوار ضلع کا دورہ کررہے تھے ۔جب ان کا قافلہگزر رہا تھا تو سڑک پر موجود سیکڑوں افراد نے پتھر پھینکنا شروع کردیا۔ دلیپ گھوش کی کار آگے بڑھ گئی اور دیگرگاڑیاں اس حملے کی زد میں آگئی ۔اطلاعات کے مطابق حملے میں کال چینی سے ممبر اسمبلی ولسن چمپاماری کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ قافلے پر پتھراؤ کے ساتھ بھیڑ نے کالے جھنڈے بھی دکھائے۔ بی جے پی رہنماؤں نےالزام عاید کیا ہے کہ اس کے پیچھے حکمراں جماعت کے لوگوں کا ہاتھ ہے ۔


دلیپ گھوش نے اپنے ٹھیک ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک روز قبل ہی بنگال میں سیاسی تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ پروگرام سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ترنمول کانگریس کے لوگوں نے حملہ کردیا اور اینٹیں پھینک دیا۔
دلیپ گھوش نے کہا کہ پارٹی میں کچھ سرکش چہرے آرہے ہیں۔ وزیر اعظم جے این یو میں سوامی وویکانند کے مجسمے کی نقاب کشائی کررہے ہیں ، جہاں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جاتےتھے۔ ایسی صورتحال میں ، کچھ لوگ گھبرائے ہوئے ہیں اور حملہ کررہے ہیں۔ درگا پوجا کے وقت ریاست میں 5سے 6 قتل کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ لاک ڈاؤن میں قتل کیا گیا۔ پولیس کے سامنے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اب ترنمول کانگریس کی اندرونی لڑائی سامنے آنے لگی ہے۔ممتا کے وزرائ اور ممبران اسمبلی ہمارے رابطے میں ہیں تو وہ پاگل ہوگئی ہیں ۔یواین آئی۔نور

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading