مغربی بنگال میں بی جے پی برسراقتدار ہوئی تو ’گجرات ماڈل‘ نافذ کیا جائے گا: دلیپ گھوش

کولکاتا: مغربی بنگال بی جے پی صدر دلیپ گھوش نے آج کہا ہے کہ اگر اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو بنگال میں گجرات ماڈل کو نافذ کیا جائے گا۔ گھوش نے ریاست میں بے روزگار ی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے مزدوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بنگال پہلے اچھے سائنسدان، ڈاکٹر اور انجینئر مہیا کرتا تھا مگر سابق بائیں محا ذ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہاں اب مزدور تیار ہورہے ہیں.

دوران انہوں نے دعوی کیا کہ سی پی آئی (ایم) کی زیرقیادت بائیں محاذ نے بنگال کو غیر مقیم مزدوروں کا گڑھ بنایا ہے جنہیں کام کرنے کے لئے گجرات جیسی ریاستوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیدی مونی (ممتا بنرجی) اکثر کہتی ہیں کہ ہم (بی جے پی) بنگال کو گجرات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ ہم یقینی طور پر یہ کریں گے اور اسے ترقی یافتہ ریاست بنائیں گے۔ ہماری خواتین اور مردوں کو وہاں کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہم یہاں روزگار کے مواقع کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ کے لوگ بڑی تعداد میں مسابقتی امتحانات کی ترجیحی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ گھوش نے کہا کہ بائیں محاذ کے چیرمین بمان بابو اورسابق وزیر اعلیٰ بدھاجیسے لوگوں نے اس طرح کی سیاست کی ہے کہ اب ہم ان تارکین وطن گجرات جیسی ریاست بھیجنے پر مجبور کردیا ہے۔ ہم ڈاکٹروں، انجینئرس یا پروفیسروں کو نہیں دے رہے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading