حکومت کی جانب سے اوپن زمرہ کے معاشی پسماندہ افراد کے لئے 10% ریزرویشن نافذ. مسلمان اس اسکیم کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔ الیاس کرمانی
اورنگ آباد (جمیل شیخ):: حکومت مہاراشٹر نے 12 فروری 2019 کو ایک جی آر حکومتی قرار داد کے تحت ایس سی، ایس ٹی ، او بی سی ، ایس ای بی سی اور مائناریٹی یا اقلیتوں کے علاوہ اوپن زمرہ کے غریب اور معاشی طورپر پسماندہ کمزور طبقات کو ترقی کے اہم قومی دھارے میں شامل کرنے کےلئے دستور ہند کے تفویض کرردہ اختیارات اور حکومت ہند کے جنوری 2019 کے قانون کے تحت ریاست مہاراٹر میں معاشی طورپر پسماندہ تمام افراد کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی غرض سے 10% ریزرویشن کو نافذ کیا ہے ۔
واضح ہو کہ اس میں ریاست مہاراشٹر میں رہنے والا ہر باشندہ جس کی سالانہ آمدنی ۸ لاکھ روپئے سے کم ہے ایسے افراد حصول تعلیم و ملازمت کے لئے اس ریزرویشن سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ اس ریزرویشن کا فائدہ حاصل کرنے کےلئے ہر شخص کے اپنے تحصیلدار سے یہ صداقت نامہ لعنا لازمی رہے گا جس کے تحت اس کی آمدنی ۸ لاکھ سے کم بتائی گئی ہو اور وہ معاشی طورپر پسماندہ طبقے سے منسلک ہے۔ اس بات کی تصدیق تحصیلدار سے حاصل کرنا ضروری ہے ۔
اگر کسی کو ایک ماہ کے اندر تحصیلدار کی جانب سے صداقت نامہ ملتا ہے یا اس میں کوئی کمی بیشی ہوتی ہے تو اس کے خلاف اپیل کے لئے نائب کلکٹر سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی ضلع کے کلکٹر کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ عوام کی سہولت کے لئے کسی جگہ پر ایک سے زائد تحصیلداروں کو صداقت نامے دینے کےلئے تقرر کر سکتے ہیں۔ واضح ہو کہ اس ریزرویشن کا فائدہ اٹھانے کے لئے صرف معاشی طورپر پسماندہ اور کمزور ہونا یہ پہلی شرط ہے۔ لہذا کسی کی ذات ، جماعت مذہب و ملت کے تمام افراد اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ بالخصوص مسلمان پورے ملک میں سب سے زیادہ معاشی پسماندگی کا شکار ہے یہ خود حکومت کے اعداد و شمار سے ثابت ہو چکا ہے لہذا مسلم عوام کو چاہئے کہ وہ سرکاری اسکیموں سے خاص طورپر تعلیم و ملازمت کے حصول کےلئے اس 10% ریزرویشن کا بھرپور فائدہ حاصل کریں اور ترقی کی قومی شاہراہ پر گامزن ہو کر کامیابی کی منزل مقصود حاصل کریں اس طرح کی دردمندانہ اپیل الیاس کرمانی صدر مہاراشٹر مسلم عوامی کمیٹی کی جانب سے اس صحافتی اعلان کے ذریعے کی جاتی ہے۔