کفیل ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے تحت اصلاح معاشرہ وخواتین بیداری تقریب کا انعقاد
اورنگ آباد:(جمیل شیخ):ہمارے بچوں کو بے شک ڈاکٹر انجینئر اورپولس بنائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں دین کا مجاہد بھی بنائیں۔ بچہ کے ذہن میں یہ بھی بات بٹھائیں کہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے دین کی خاطر جان بی قربان کرنے تیار ہے اللہ کے خواتین پر بڑے احسانات ہیں ماں کے قدموں تلے جنت کا اعزاز ایک عورت کو دیا۔
والدین اور شوہر کی جائیداد میں حصہ رکھا بیٹی کو رحمت بنایا لیکن آج ہم ان احسانات کو فراموش کر بیٹھی ہیں اللہ نے جس مقصد کے تحت ہمیں زمین پر بھیجا اس مقصد کو ہم نے بھلادیاجو ذمہ داریاں ہمیں سونپی گئی ہیں انہیں ہم ادا نہیں کررہے ہیں مقصد حیات کو ہم نے بھلادیا ایک عوریت کا بگاڑ پوری نسل کو بگاڑ ہوتا ہے غور کریں حضرت اسماعیل کو آداب فرزندگی وآداب بندگی کس نے سکھایا ان کی والدہ کی تربیت نے اولاد ہمارے لئے نعمت ہیں مگر ہم اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اولاد کو برباد کررہے ہیں بچوں کی تربیت پر ہماری کوئی توجہ نہیں ہےے۔ آج ہم سب مثالی بیٹی مثالی بہن مثالی بیوی اور مثالی ماں بننے کا عزم کریں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کی اصلاح کریں احکام خداوندی پر عمل کریں اسطرح کا اظہار خیال جماعت اسلامی ہند خواتین ونگ صدر فہیم النساء نے کیا کفیل ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر انصرام عالمی یوم خواتین کے ضمن میں رحمانیہ کالونی میں منعقدہ اصلاح معاشرہ اور خواتین بیداری تقریب واجلاس کا انعقاد کیاگیا اس اجلاس میں وہ صدارتی مخاطبت کے ذریعہ خواتین کی رہنمائی کررہی تھیں اس تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر نزہت ترنم ڈاکٹر ثناء خلجی اور ڈاکٹر صبا پٹھان مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھیں۔
ابتداء میں سوسائٹی صدرواجلاس کی روح رواں فردوس فاطمہ نے مہمانان کا تعارف اور اصلاح معاشرہ کی غرض وغایت پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں مہمان مقررین نے اپنے اپنے شعبہ کی مناسبت اور اسلامی احکامات کی بنیاد پر تقریب میں شریک خواتین کی رہنمائی وذہن سازی کی۔ سبھی نے اصلاح معاشرہ اور دین پر چلنے اور بچوں کی اسلامی بنیاد پر تعلیم وتربیت کی ترغیب دی۔ ڈاکٹر صبا خان نے داتوں کی صفائی اور برش کے استعمال پر زور دا۔ سب سے بہت رسنت طریقہ مسواک کو بتایا۔ دانوں کے امراض کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی ماہر نفسیات ڈاکٹر ثناء خلجی نے عورتوں میں بڑھتے نفسیاتی امراض پر رہنمائی کی۔اکیلا پن اداسی اچانک خوف میں مبتلا ہونا نیند نہ آنا وسوسے آنا وغیرہ نفسیاتی مرض کی علامتیں ہونے کا انہو ںنے ذکر کیا انہو ںنے کہا زندگی میں ہر انسان کبھی نہ کبھی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہوتا ہے۔ نفسیاتی مرض خواتین جادو ٹونا اور آسیب کی زد میں آنا سمجھ بیٹھتی ہیں اور علاج کروانے کسی بابا سے رابطہ کرتی ہیں جبکہ قرآن میں تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے۔ ڈاکٹر نزہت ترنم نے کہا اسلام نے ہر مردوعورت پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے خود بھی تعلیم حاصل کریں اور اپنے بچوں کو بھی آراستہ کریں۔انہو ںنے امور خانہ داری کے لئے بھی تعلیم بے حد ضروری ہے۔ غیر ضروری کاموں اور چیزوں پر بے تحاشہ خرش کیا جاتا ہے لیکن بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے میں آنا کانی کی جاتی ہے یہ افسوس بھی انہو ںنے ظاہر کیا
سوسائٹی صدر فردوس فاطمہ نے اپنی مخاطبت میں کہا کھانی پینا سونا اور دیگرمصروفیات اصل میں ہماری ضرورت ہے لیکن اسے ہم نے مقصد سمجھ لیا ہے انھوں نے کہا موبائل اس دور کا سب سے بڑا نشہ اور لعنت ہے۔ موبائل ٹی وی کو انہو ںنے یہود ونصاری کی منظم سازش قرار دیا۔ فردوس فاطمہ نے کہا زندگی کی جنگ لڑنا بھی جہاد ہے شریعت واحکام الہی کے مطابق زندگی گزارنے نے بچوں کی صحیح تعلیم وتربیت نمازوں کی پابندی کرنے کی انہو ںنے تلقین کی۔ جہاں آراء نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ اس تقریب میں رحمانیہ کالونی اور اطراف واکناف کی خواتین بڑی تعدادمیں موجود تھی۔