بہار کے مظفر پور شیلٹر ہوم معاملے میں دہلی واقع ساکیت کورٹ نے اہم ملزم برجیش ٹھاکر کو قصوروار قرار دیا ہے۔ جنسی استحصال کے معاملے میں عدالت نے 20 ملزمین میں سے 19 کو قصوروار پایا۔ عدالت سزا کا اعلان 28 جنوری کو کرے گی۔ برجیش ٹھاکر پر نابالغ بچیوں اور لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزام تھے۔ ساکیت کورٹ نے برجیش ٹھاکر کو پوکسو قانون کے تحت سنگین جنسی استحصال اور اجتماعی عصمت دری کا قصوروار پایا۔ وہیں عدالت نے ایک ملزم کو بری کر دیا ہے۔ برجیش ٹھاکر کے شیلٹر ہوم ’سیوا سنکلپ ایوم وکاس سمیتی‘ میں کچھ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ جنسی اور جسمانی استحصال کا معاملہ 2018 میں سامنے آیا تھا۔
Bihar's Muzaffarpur shelter home case: The court has listed the matter for argument on quantum of sentence on January 28 https://t.co/pVbhtj1vu6
— ANI (@ANI) January 20, 2020
یہ پورا معاملہ بہار کے شیلٹر ہوم میں نابالغ بچیوں اور لڑکیوں سے عصمت دری سے جڑا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر اس پورے معاملے کی سماعت دہلی کی ساکیت ضلع عدالت میں پوری ہوئی ہے۔ یہ معاملہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد سرخیوں میں آیا تھا۔ اس میں اہم ملزم کے طور پر برجیش ٹھاکر کا نام سامنے آیا جو بہار حکومت کے بے حد قریب تھا۔ ساکیت عدالت نے برجیش ٹھاکر سمیت 19 ملزمین کے خلاف پوکسو، عصمت دری، مجرمانہ سازش جیسی دفعات میں الزام طے کیے۔ سی بی آئی نے بھی معاملے میں اہم ملزم برجیش ٹھاکر کو ہی بنایا۔ سی بی آئی نے عدالت میں داخل اپنی چارج شیٹ میں بتایا کہ جس شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ عصمت دری ہوتی رہی اس کو برجیش ٹھاکر ہی چلا رہا تھا۔
برجیش ٹھاکر نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے کئی سازشیں کیں لیکن وہ خود کو بچا نہیں سکا۔ مظفر پور شیلٹر ہوم کے اہم ملزم نے گواہوں کی گواہی کو بھروسے لائق نہیں بتاتے ہوئے عدالت میں ایک عرضی بھی داخل کی تھی، جسے عدالت نے ہفتہ کے روز خارج کر دی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو