مظفرنگر میں ’اللہ اکبر‘ اور ’جو بولے سو نہال‘ کے نعرے ایک ساتھ بلند

مظفرنگر: ملک میں جس طرح کی نفرت کی بیار آج بہہ رہی ہے اس میں ہر سو سے مار کاٹ، کشیدگی اور فرقہ وارانہ تشدد کی خبروں کی ہی بہتات نظر آتی ہے لیکن دریں اثنا اکا دکا ایسی بھی خبریں منظر عام پر آ جاتی ہیں جو اس حبس سے پُر ماحول میں تازی ہوا کا جھونکا معلوم ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خبر مظفر نگر سے موصول ہوئی ہے جو مذہبی ہم آہنگی کی ایک مثال ہے۔

دراصل، سکھوں کے مذہبی پیشوا گرونانک کے پانچ سو پچاسویں یوم پیدائش کے موقع پر بیدر کرناٹک سے چل کر مظفرنگر پہنچنے والے طویل جلوس کا آج مظفرنگر میں مسلم جماعتوں کے ذمہ داران نے والہانہ استقبال کرکے خیر سگالی کا پیغام دیا۔ جس کو دیکھ کر سکھوں کے مذہبی رہنماؤں نے نعرہ تکبیر ’اللہ اکبر‘ اور ’جو بولے سونہال‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سکھ مسلم اتحاد کی مثال پیش کی۔

پیغام انسانیت کے زیر اہتمام جمعیۃ علما ہند سمیت مختلف تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں نے مظفرنگر کے میناکشی چوک پر سکھوں کے مذہبی جلوس کا استقبال کرتے ہوئے اس قدم کو ملک کی سالمیت اور یکجہتی کے لئے ضروری قرار دیا۔

تصویر قومی آواز

واضح رہے کہ گرو نانک دیو جی صاحب کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر گرودوارہ نانک جھیرا صاحب بیدر کرناٹک سے یہ یاترا 2 جون کو شروع ہوئی تھی جو آج یعنی 16 جولائی کو مظفرنگر پہنچی۔

اس موقع پر سماجی تنظیم ’پیغام انسانیت‘ کے صدر حاجی آصف راہی نے کہا کہ ’’ہندوستان کی قومی یکجہتی اور سالمیت کی حفاظت اسی وقت ہوسکتی ہے جب ہم ایک دوسرے کے مذہبی شعائر کی عزت کریں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی روابط مضبوط ہوں گے‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیکولر ملک ہے جہاں جمہوری نظام ہے ایسے میں آج کے ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم سبھی کو خیر سگالی اور آپسی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا تبھی ہم ملک کے سیکولر تانے بانے کو مضبوط کر پائیں گے۔

مسلمانوں کے ذریعہ اس والہانہ استقبال کو دیکھ کر سکھ طبقے کے لوگوں اور ان کے مذہبی رہنماؤں نے مسلمانوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا استقبال بیدر سے یہاں تک کسی طبقہ نے پہلی مرتبہ کیا ہے۔ مسلم مذہبی رہنماؤں نے سکھوں کے پنچ پیاروں کو چادر اڑھا کر استقبال کیا، جن میں مولانا قاسم، حاجی آصف راہی، جمعیۃ علماء کے ضلع سکریٹری مولانا موسیٰ قاسمی،قاضی محمد علی علوی، وغیرہ کے نام خصوصی طور سے شامل رہے۔ اس موقع پر پولس اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے حفاظت کے چاک و چوبند انتظامات کئے گئے تھے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading