مظاہرہ LIVE: شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کے درمیان ہندوستانی پرچم بازار سے ندارد!

شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف مظاہروں کے درمیان ہندوستانی پرچم کی کمی واقع

پورے ملک میں شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف دھرنا و احتجاجی مظاہرہ جاری ہے اور ان مظاہروں میں مظاہرین ہندوستانی پرچم لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ لگاتار ہو رہے مظاہروں کی وجہ سے بازار میں ہندوستانی پرچم کی کمی واقع ہو گئی ہے اور 26 جنوری کے موقع پر اس کمی سے ان بچوں کو پریشانی سامنے آ سکتی ہے جو اسکول میں پروگرام کے دوران ہندوستانی پرچم لے کر جایا کرتے تھے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق تلنگانہ کی راجدھانی حیدر آباد میں شہریت ترمیمی قانون کو لے کر چل رہے احتجاجی مظاہروں میں اس کے حامی اور مخالف دونوں ہی ریلیوں میں لوگ ترنگا لے کر چل رہے ہیں جس سے 26 جنوری سے ٹھیک پہلے جھنڈے کی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ترنگے کی سپلائی کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلی بار یوم جمہوریہ پر جھنڈے کی اتنی کمی واقع ہوئی ہے۔ طلب کو دیکھتے ہوئے دکانداروں نے ترنگے کی قیمت دوگنی کر دی ہے۔

جے این یو میں اچانک حملہ نہیں ہوا بلکہ کروایا گیا ہے: جے رام رمیش

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے جے این یو طلبا پر نقاب پوش غنڈوں کے حملہ پر مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’جے این یو حملہ ہوئے 72 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ یہ حملہ اچانک نہیں ہوا بلکہ کروایا گیا ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس حملے کے پیچھے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا ہاتھ ہے۔ جے رام رمیش نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ دہلی پولس کو اس بات کی جانکاری ہے کہ ملزم کون ہیں، اس کے باوجود ملزمین کی گرفتاری نہیں ہو رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ حملے کے ملزمین کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔

جے این یو طلبا و اساتذہ نے مظاہرہ کے دوران پڑھی فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘

جے این یو طلبا نے ایک طرف تو یونیورسٹی کیمپس میں فیس اضافہ اور وائس چانسلر کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا ہوا ہے اور دوسری طرف منڈی ہاؤس پر بھی بڑی تعداد میں طلبا و اساتذہ کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی ہستیاں بھی جمع ہو گئی ہیں۔ منڈی ہاؤس سے احتجاجی مارچ نکل کر وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی طرف جائے گا اور جے این یو میں فیس اضافہ، کیمپس میں طلبا پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ کیے گئے حملہ اور وائس چانسلر کو ہٹائے جانے سے متعلق اپنی آواز بلند کرے گا۔

جے این یو سے کئی طلبا منڈی ہاؤس بس سے پہنچے ہیں اور احتجاجی مارچ کے دوران وہ فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ پڑھتے ہوئے بھی نظر آئے۔ مارچ میں طلبا کے ذریعہ دہلی پولس اور وائس چانسلر کے خلاف نعرے بازی بھی ہو رہی ہے اور وقتاً فوقتاً کچھ نغمے بھی گائے جا رہے ہیں۔

’اوپر‘ سے دہلی پولس کو تشدد نہیں روکنے کی مل رہی ہدایت: اروند کیجریوال

دہلی میں مظاہروں کے دوران تشدد کے ہوئے کچھ واقعات اور جے این یو کیمپس میں طلبا پر ہوئے حملے کے پیش نظر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بڑا بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’دہلی پولس کیا کر سکتی ہے؟ اوپر سے حکم اگر آئے گا کہ آپ کو تشدد نہیں روکنا، نظامِ قانون ٹھیک نہیں رکھنا تو وہ بے چارے کیا کریں گے؟‘‘ کیجریوال نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’اگر (یہ افسران) نہیں مانیں گے تو وہ برخاست ہو جائیں گے۔‘‘


جے این یو کیمپس میں پولس کا پہرہ سخت، طلبا لگا رہے وائس چانسلر مخالف نعرے

جے این یو میں طلبا و اساتذہ یونین کا احتجاجی مارچ جاری ہے اور کیمپس کے اندر پولس کا پہرہ بھی کافی سخت کر دیا گیا ہے۔ طلبا نے نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ طلبا پر کیے گئے حملے اور فیس اضافہ کو لے کر یہ احتجاجی مارچ نکالا ہے۔ احتجاجی مظاہرہ کے دوران نقاب پوش غنڈوں کے حملے کے دوران پولس کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کچھ بینر پر دہلی پولس کے خلاف نعرے لکھے۔ جے این یو وائس چانسلر کو ہٹائے جانے کا مطالبہ بھی اس احتجاجی مظاہرہ کے دوران بلند آواز میں کیا جا رہا ہے۔


جے این یو کیمپس میں طلبا پر حملہ کے خلاف اسٹوڈنٹس یونین کا مظاہرہ شروع

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں 5 جنوری کو کیمپس کے اندر طلبا پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ کیے گئے حملے کے خلاف طلبا اور اساتذہ کا مارچ شروع ہو گیا ہے۔ طلبا مظاہرہ کے دوران نعرے بازی کر رہے ہیں اور جے این یو وائس چانسلر کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرہ میں طلبا کی بڑی تعداد دیکھنے کو مل رہی ہے اور جے این یو کیمپس کے باہر دہلی پولس بھی بڑی تعداد میں کھڑی ہے۔ سخت سیکورٹی کے درمیان مظاہرہ پرامن ہے اور اے بی وی پی طلبا کے خلاف بھی پوسٹر و بینر نظر آ رہے ہیں۔


دہلی یونیورسٹی طلبا کے مظاہرہ میں نظر آیا ’کشمیر آزاد‘ کا پوسٹر، پولس نے شروع کی کارروائی

جے این یو میں 5 جنوری کو نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ طلبا پر حملہ کے خلاف دہلی یونیورسٹی طلبا نے 8 جنوری کو احتجاج مظاہرہ کیا جس میں ایک پوسٹر پر ’کشمیر آزاد‘ لکھا دیکھا گیا۔ دہلی پولس نے سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو پر از خود نوٹس لیا ہے۔ حالانکہ اس پوسٹر میں مزید کچھ لکھا گیا ہے یا نہیں، یہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ دہلی پولس کی اسپیشل سیل سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی اس تصویر کی صداقت کی جانچ کرے گی اور پھر مناسب کارروائی کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف یشونت سنہا نے نکالا ’گاندھی شانتی مارچ‘

سابق مرکزی وزیر اور سابق بی جے پی لیڈر یشونت سنہا نے مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ’گاندھی شانتی مارچ‘ نکالا ہے۔ یہ شانتی مارچ ممبئی سے نکالا گیا ہے اور اس موقع پر این سی پی سربراہ شرد پوار، ونچت اگھاڑی کے لیڈر پرکاش امبیڈکر سمیت کئی اہم لیڈران موجود تھے۔ یہ مارچ گیٹ وے آف انڈیا سے نکالا گیا ہے۔


جے این یو طلبا یونین کا احتجاجی مارچ آج، یونیورسٹی کے باہر سیکورٹی سخت

جے این یو میں 5 جنوری کو نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ ہوئے حملے کے بعد پورے ملک میں طلبا سڑکوں پر نکل آئے تھے اور آج جے این یو طلبا یونین کا احتجاجی مارچ ہے۔ اس احتجاجی مارچ کے پیش نظر جے این یو کیمپس کے باہر پولس کی سیکورٹی کافی سخت کر دی گئی ہے۔ احتجاجی مارچ میں جے این یو طلبا فیس میں ہوئے اضافہ اور کیمپس میں طلبا پر حملے کی مخالفت کریں گے، ساتھ ہی وہ وائس چانسلر کے خلاف بھی آواز بلند کریں گے۔


دہلی: شہریت قانون کے خلاف لال کنواں سے جامع مسجد تک نکلا ’کینڈل لائٹ‘ مارچ

شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف لوگوں کا دھرنا و مظاہرہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پورے ملک میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیمیں لگاتار سڑکوں پر اتر کر اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ مودی حکومت سے کر رہی ہیں۔ بدھ کی شب پرانی دہلی کے لال کنواں سے جامع مسجد تک بھی لوگوں نے بڑی تعداد میں کینڈل لائٹ مارچ نکالا اور اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس مارچ میں بڑی تعداد میں خواتین بھی موجود تھیں اور کچھ خواتین شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پلے کارڈس ہاتھ میں لیے ہوئی تھیں۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading