جے این یو کیمپس میں طلبا پر حملہ کے خلاف اسٹوڈنٹس یونین کا مظاہرہ شروع
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں 5 جنوری کو کیمپس کے اندر طلبا پر نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ کیے گئے حملے کے خلاف طلبا اور اساتذہ کا مارچ شروع ہو گیا ہے۔ طلبا مظاہرہ کے دوران نعرے بازی کر رہے ہیں اور جے این یو وائس چانسلر کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرہ میں طلبا کی بڑی تعداد دیکھنے کو مل رہی ہے اور جے این یو کیمپس کے باہر دہلی پولس بھی بڑی تعداد میں کھڑی ہے۔ سخت سیکورٹی کے درمیان مظاہرہ پرامن ہے اور اے بی وی پی طلبا کے خلاف بھی پوسٹر و بینر نظر آ رہے ہیں۔
Delhi: Protests continue in Jawaharlal Nehru University against the January 5 violence in the campus. pic.twitter.com/ReFcw4TxZn
— ANI (@ANI) January 9, 2020
دہلی یونیورسٹی طلبا کے مظاہرہ میں نظر آیا ’کشمیر آزاد‘ کا پوسٹر، پولس نے شروع کی کارروائی
جے این یو میں 5 جنوری کو نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ طلبا پر حملہ کے خلاف دہلی یونیورسٹی طلبا نے 8 جنوری کو احتجاج مظاہرہ کیا جس میں ایک پوسٹر پر ’کشمیر آزاد‘ لکھا دیکھا گیا۔ دہلی پولس نے سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو پر از خود نوٹس لیا ہے۔ حالانکہ اس پوسٹر میں مزید کچھ لکھا گیا ہے یا نہیں، یہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ دہلی پولس کی اسپیشل سیل سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی اس تصویر کی صداقت کی جانچ کرے گی اور پھر مناسب کارروائی کرنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔
شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف یشونت سنہا نے نکالا ’گاندھی شانتی مارچ‘
سابق مرکزی وزیر اور سابق بی جے پی لیڈر یشونت سنہا نے مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ’گاندھی شانتی مارچ‘ نکالا ہے۔ یہ شانتی مارچ ممبئی سے نکالا گیا ہے اور اس موقع پر این سی پی سربراہ شرد پوار، ونچت اگھاڑی کے لیڈر پرکاش امبیڈکر سمیت کئی اہم لیڈران موجود تھے۔ یہ مارچ گیٹ وے آف انڈیا سے نکالا گیا ہے۔
Mumbai: NCP Chief Sharad Pawar,former Union Minister Yashwant Sinha,Vanchit Bahujan Aghadi's Prakash Ambedkar and other leaders at Gateway of India during 'Gandhi Shanti Yatra', a protest against #CitizenshipAmendmentAct and #NationalRegisterofCitizens pic.twitter.com/gDG6otbWxf
— ANI (@ANI) January 9, 2020
جے این یو طلبا یونین کا احتجاجی مارچ آج، یونیورسٹی کے باہر سیکورٹی سخت
جے این یو میں 5 جنوری کو نقاب پوش غنڈوں کے ذریعہ ہوئے حملے کے بعد پورے ملک میں طلبا سڑکوں پر نکل آئے تھے اور آج جے این یو طلبا یونین کا احتجاجی مارچ ہے۔ اس احتجاجی مارچ کے پیش نظر جے این یو کیمپس کے باہر پولس کی سیکورٹی کافی سخت کر دی گئی ہے۔ احتجاجی مارچ میں جے این یو طلبا فیس میں ہوئے اضافہ اور کیمپس میں طلبا پر حملے کی مخالفت کریں گے، ساتھ ہی وہ وائس چانسلر کے خلاف بھی آواز بلند کریں گے۔
Delhi: Jawaharlal Nehru University Students' Union to hold a protest march today, heavy security at campus main gate pic.twitter.com/BIN57t7vIe
— ANI (@ANI) January 9, 2020
دہلی: شہریت قانون کے خلاف لال کنواں سے جامع مسجد تک نکلا ’کینڈل لائٹ‘ مارچ
شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف لوگوں کا دھرنا و مظاہرہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پورے ملک میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیمیں لگاتار سڑکوں پر اتر کر اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ مودی حکومت سے کر رہی ہیں۔ بدھ کی شب پرانی دہلی کے لال کنواں سے جامع مسجد تک بھی لوگوں نے بڑی تعداد میں کینڈل لائٹ مارچ نکالا اور اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس مارچ میں بڑی تعداد میں خواتین بھی موجود تھیں اور کچھ خواتین شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پلے کارڈس ہاتھ میں لیے ہوئی تھیں۔
Delhi: Candlelight vigil against Citizenship Amendment Act and National Register of Citizens held from Lal Kuan to Jama Masjid today evening. pic.twitter.com/pp6XCUpKaH
— ANI (@ANI) January 8, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
