مسلم معاشرے کی بدلتی سوچ؟

بیٹے کےلئے محمدی بیوی چاہئے‘لیکن بیٹی کےلئے شوہر دولتمند اور اچھا گھرانہ کھلے ذہین کے لوگ چاہئے
سعیدپٹیل جلگاوں

ملک عزیز میں مسلم معاشرہ گذشتہ ایک ہزار برسوں سے ملی جلی گنگاجمنی تہذیب میں زندگی گذاررہاہے اسی دوران ادوار کےمطابق بدلتے رحجانات اور تقاضوں کی وجہ سے اسلامی شرعی طریقئہ کار کے علاوہ دیگر امور کوبھی اس نے اپنے معاشرے میں جگہ و اعلیٰ مقام دے رکھا ہیں۔جس کی وجہ سے اسے بھی بیشمار پریشانیوں اور تکالیف کاسامناکرنا پڑتاہیں۔ہم شادی بیاہ کےمعاملے میں آج کے تکنیکی اور مصروفیات کےباوجود رسومات ورواجات کو چھوڑنا پسند نہیں کرتےہیں۔ایساہی ایک رحجان دبے قدموں سے مسلم معاشرے میں اپنامقام بنانے میں کامیاب ہوتاہوا نظر آرہا ہے۔کہ اپنے بیٹے کےلئے بیوی توچاہئے جومحمدی ،شریعت کی پابند ہو یہ سوچ قابل ستائیش اور مبارک ہیں۔ لیکن بیٹی کےلئے شوہر چاہئے وہ بھی دولتمند بڑی ملازمت یا سرکاری ملازم ہو اور سسرالی گھرانہ کھلے ذہین کا ہو۔تاکہ ان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی ملازمت کرسکیں۔جبکہ آج کے دور میں زیادہ تر لڑکے ملازمت پیشہ لڑکیوں سے اعتراض کررہیں ہیں۔؟یہ مسئلہ مسلم معاشرے کےلئے لمحہ فکر بن کر سامنے آرہاہے۔جوکہ تشویشناک ہے۔اس لئے لڑکیوں کے والدین اس جانب سنجیدگی سے غوروفکر کریں۔اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔تاکہ معاشرہ شادی بیاہ کےمعاملے کی وجہ سے کوءفتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں۔؟اس پر ہم سادگی کوپسند کرتے ہی نہیں بلکہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں لیکن رشتہ جوڑتے وقت ہم جوباتیں تلاش کرتے ہیں یا معاشرے سے جوامیدیں لگاتے ہیں اس سے مسلم معاشرہ رشتوں کے تعلق سے انتشار کا شکار ہورہاہیں۔؟اس طرف بھی سماج اور دینی امور کے ذمہ داران کو غوروفکر کرنےکی ضرورت ہیں تاکہ اپنی بچیوں اور بچوں کی شادیاں وقت پر اور پرنور دینی اعتبار سے پروقار ومثالی ہو۔ اللہ جلّہ شانہ ہمیں ایسی سوچ وفکر کے ساتھ نیک ہدایت سے نوازے۔ آمین

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading