مسلمان عبادتوں کو مذاق نہ بنائیں: مفتی محمد خلیل الرحمن

ناندیڑ: 7جون ( شیخ اکرم)ممتاز و محترم عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان عبادتوں میں خشوع و خضوع کو برقرار رکھیں اور اپنی اُلٹی سُلٹی حرکتوں سے عبادتوں کو مذاق نہ بنائیں۔ آج عبادت تو ہورہی ہے لیکن اُس کی روح ختم ہوگئی،کیونکہ عبادتوں میں شریعت کی پاسداری نہیں کی جارہی ہے اور شرعی احکام کو پامال کیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر حقیقی عذر کے بغیر کرسی پر نماز پڑھنا، دعوتِ افطار میں کفار و مشرکین کو مدعو کرنا اور پھر عیدملاپ کی دھوم مچانا، تفسیر اور نماز کے لئے مائک و لاﺅڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال، نماز کے لئے مسجد میں کولر یا پنکھے کے نیچے اپنی مخصوص جگہ بنالینا، زکوٰة کی غیر منصفانہ تقسیم اور اُس میں ڈنڈی مارنا، روزے میں غلط کام، حج و عمرہ کو پکنک بنادینا وغیرہ۔ مفتی صاحب نے مذکورہ بالا اُمور پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عبادتوں میں تھوڑی بہت مشقت کو برداشت کرنا چاہئے، معمولی معمولی عذر کی بناءپر کرسی پر نماز پڑھنا عبادت کی روح کو ختم کردیتا ہے اور خشوع و خضوع کی کیفیت برقرار نہیں رہتی۔ اسی طرح کولر یا پنکھے کے نیچے ہی نماز پڑھنے کو ترجیح دینا ایسا ہے جیسے نماز اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ کولر یا پنکھے کے لئے پڑھی جارہی ہو۔ مفتی صاحب نے مزید کہا کہ افطار بھی ایک عبادت ہے، عوام کا حرام و حلال کی پرواہ کئے بغیر سیاسی افطار پارٹیوں میں شرکت کرنا اور محض نام و نمود او رنمائش کی خاطر ان افطار پارٹیوں میں کفار و مشرکین کو مدعو کرنا گویا عبادت کو خراب اور ضائع کرنا ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ اپنے مال کی صحیح طرح سے اور پوری پوری زکوٰة نہ نکالنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ جو لوگ اپنے مال کی ایمانداری سے زکوٰة ادا نہیں کرتے وہ دُنیا میں بھی بیشمار پریشانیوں میں گرفتار کئے جاتے ہیں اور آخرت میں بھی اُن کے مال کو سانپ بناکر گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ مفتی صاحب نے حج پہ حج اور عمرہ پہ عمرہ کرنے والوں پر بھی تنقید کی اور اُنہیں اس بات کا جائزہ لینے کی تلقین کی کہ آیا وہ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق بھی ادا کررہے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ حقوق ادا نہیں کررہے ہیں تو حج و عمرہ اُن کے لئے پکنک سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ آخر میں مفتی صاحب نے مائک و لاﺅڈ اسپیکر کے غیر ضروری استعمال پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ چھوٹی مسجدوں میں نماز کے لئے اسپیکر کی ضرورت ہی نہیں ہے ،اُس کے باوجود نماز کے لئے امام صاحبان کا اسپیکر میں نماز پڑھانا عبادت میں خلل اندازی اور ایک قسم کا فیشن ہے۔ اسی طرح قرآن کی تفسیر کے لئے مسجد کے باہری حصہ کے لاﺅڈ اسپیکر کو چالو کر دینا قرآن کے احترام میں کمی اور غیر سنجیدگی پیدا کررہا ہے۔ کیونکہ مسجد کے باہر لوگ اپنے اپنے کاموں میں ہوتے ہیں اور قرآن کو غور سے نہ سننے پر گناہ لازم آتا ہے۔ مفتی صاحب نے عوام الناس کو تلقین بھی کی کہ وہ شریعت کے احکام کو جانیں، سمجھیں اور کسی مستند عالم سے پوچھ کر تصدیق کرلیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading