مدھیہ پردیش:یونیورسٹی کے مسلم پروفیسرپر تبلیغ اسلام کا الزام، تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل

بھوپال۔: مدھیہ پردیش کے اجین میں وکرم یونیورسٹی نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک پروفیسر کے خلاف ادارہ میں اسلام کی تبلیغ کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جاسکیں۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر اکھلیش کمار پانڈے نے پیر کے روز کہا کہ انہیں انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی کے گیسٹ پروفیسر انیس شیخ کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں کہ وہ واٹس ایپ گروپ میں اسلام کی تبلیغ کررہے ہیں۔

اس گروپ میں ہندو برادری کے ارکان بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پروفیسر پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ پرچوں کی جانچ کے دوران مذہب کی بنیاد پر طلبہ کے درمیان تفریق کرتے ہیں۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔انیس شیخ کو ہدایت دی گئی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک وہ ڈپارٹمنٹ میں نہ آئیں۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے جمعہ کے روز یونیورسٹی میں احتجاج منظم کیا اور اس معاملہ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اے بی وی پی کے اجین مہانگر کے سکریٹری آدرش چودھری نے کہا کہ طویل عرصہ سے یہ شکایات موصول ہورہی تھی کہ پروفیسر امتحانات میں ایک مخصوص مذہب کے طلبہ کی حمایت کرتے ہیں جبکہ ہندوبرادری کے طلبہ کو ہراساں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف اسلامی تہواروں سے متعلق مواد واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیا گیا جبکہ اس گروپ میں ہندوبرادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی شامل ہیں۔

اے بی وی پی کارکن نے کہا کہ ان کی تنظیم کو اسلام کی تبلیغ کے بارے میں ایک پوسٹ کا اسکرین شارٹ موصول ہوا ہے، اِس چاٹنگ میں روزہ، رمضان اور نماز کی ادائیگی کے فوائد بیان کئے گئے تھے۔ تاہم پروفیسر نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واٹس ایپ گروپ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ڈپارٹمنٹ کا واٹس ایپ گروپ ہے۔ ہیڈآف ڈی ڈپارٹمنٹ اس کے ایڈمن ہیں۔ جس چاٹ کے بارے میں اعتراض کیا جارہا ہے وہ ایک سال پرانی ہے اور ایک طالب علم نے اسے پوسٹ کیا تھا۔ اس چاٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ پروفیسر نے بتایا کہ ایچ او ڈی نے بعدازاں طلبہ سے کہا کہ وہ ایسی چاٹس پوسٹ نہ کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading