اندور : مدرسہ کی لڑکی سے دست درازی کی کوشش : استاد کیخلاف مقدمہ

اندور : مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک مدرسہ کے استاد نے ایک 12 سالہ لڑکی سے دست درازی کی۔ پولیس نے آج یہ بات بتائی۔ پولیس نے آج 52 سالہ استاد کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 354 اور قانونِ پوسکو کی متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا۔

انسپکٹر چندن نگر پولیس اسٹیشن ابہئے نیما نے پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی۔ متاثرہ لڑکی کے باپ اور چچا کو زدوکوب کرنے کے لیے استاد کے دو بیٹوں کے خلاف بھی کیس درج کیا گیا۔

لڑکی کے خاندان کی درج کردہ شکایت کے مطابق لڑکی ماہِ ستمبر میں مدرسہ میں شریک ہوئی۔ ایک کمرے میں درس دینے کے دوران غلط انداز میں لڑکی کے جسم کو چھونے کا استاد پر الزام عائد کیا گیا۔

چندن نگر پولیس کے مطابق واقعہ رانی پورہ سرپور میں واقع آل رسول مدرسہ کا ہے۔ اس علاقے میں رہنے والی ایک لڑکی حضرت احمد حسین کے مدرسے میں پڑھنے جاتی تھی۔ الزام ہے کہ پڑھاتے ہوئے حضرت نے لڑکی کے ساتھ فحش حرکات کیں۔ لڑکی نے یہ واقعہ اپنی ماں کو بتایا تو ماں نے اپنے بھائی سے بات کی۔ لڑکی کے ماموں مولوی سے بات کرنے گئے تو حضرت کے بیٹے رضا نے اس پر ہتھوڑے سے حملہ کردیا۔

رات ہی میں چندن نگر پولیس نے حضرت ولد سید اعظم حسین اور ان کے بیٹے رضا کے خلاف دفعہ 354، 323، 294، 506، 34، 7/8، 9 (ایف)، 10، 9 (ایل) کے تحت مقدمہ درج کیا۔ 10 POCSO ایکٹ رجسٹرڈ۔

جاریہ ہفتہ کے اوائل میں جب لڑکی اور دیگر طلباء مدرسہ سے واپس ہورہے تھے، ملزم نے لڑکی کا دایاں ہاتھ پکڑ کر نامناسب انداز میں جسم کو چھوا۔ بعد ازاں لڑکی نے اپنے والدین سے اس بارے میں شکایت کی۔ جب لڑکی کا باپ اور دو رشتہ دار استاد کے مکان گئے استاد کے بیٹوں نے ان پر آہنی سلاخوں سے حملہ کرکے زخمی کیا۔ انسپکٹر نیما نے یہ بات بتائی۔

متاثرہ کا بیان درج

لڑکی ستمبر سے حضرت حسین کے مدرسے میں پڑھتے تھی۔ کچھ دنوں کے بعد مولوی حضرت نے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ حضرت اسے سبق سکھانے کے بہانے اندر کے کمرے میں لے جاتے تھے۔ وہ کمرے میں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا تھا۔ 5 اکتوبر کو جب وہ گھر واپس آرہی تھیں تو تمام بچوں کے جانے کے بعد حضرت نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ میں گھبرا کر گھر کی طرف بھاگی میں نے اپنی ماں کو سارا واقعہ سنایا۔ ماموں حضرت سے بات کرنے گئے تو ان کے بیٹے رضا نے ان پر حملہ کر دیا۔

(جیسا کہ متاثرہ نے ایف آئی آر میں پولیس کو بتایا)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading