
ایودھیا معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو لے کر اسدالدین اویسی نے اپنا موقف واضح کیا تھا، اسی بات کو لے کر بھوپال کے ہائی کورٹ میں انکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اسدالدین اویسی کے چاہنے والوں نے انکے دفاع میں ٹویٹر پر ٹریند چلایا #asaduwaisi ٹریند کل پورے دن چلا، اور اسکے جواب میں شرپسندوں کی طرف سے اسدالدین اویسی ملک دشمن کا ٹرینڈ چلایا گیا مگر کامیابی اسدالدین اویسی کے چاہنے والوں کو ملی۔
I Support @asadowaisi #IAmAsadOwaisi pic.twitter.com/VkrgjLN5B2
— काकावाणी (161K) (@AliSohrab007) November 12, 2019
If you think Asad Owaisi is wrong then Just reverse the Ayodhya Verdict. You will start respecting Owaisi
#IamAsadOwaisi
— MS_Hussain (@MS__Hussain) November 12, 2019
@asadowaisi @aimim_national
The Only Person Who Stands Alone In Parliament Against the Government And Talks About Unity, Equality, Peace , Justice & the Rights of Minorities in India .#IAmAsadOwaisi pic.twitter.com/No4E3G4GOv— Dr.Gaffar Quadri (@DrGaffarQuadri) November 12, 2019
#IAmAsadOwaisi Freedom of speech is democratic right.
I Support @asadowaisi Statement on Ayodhya Verdict.— arshad (@arshad2399) November 12, 2019
متعدد صارفین(یوسرز)نے اپنی ٹویٹس میں اویسی کو ‘بے آواز کی آواز’ قرار دیا ہے جس میں اسدالدین اویسی بھی شامل ہوۓ۔
Voice of the voiceless people's..
Barrister Asaduddin Owaisi#IamAsadowaisi pic.twitter.com/EpuSdATopW— Mufti Iftekhar-ul-haq Qasmi (@shaikhiftekhar9) November 12, 2019
Trend in no.1 of india
The great leader of dalit and minority.#IAmAsadOwaisi pic.twitter.com/5i04746N3U— Jitendra Verma (@jitendraVerma_) November 12, 2019
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف ایودھیا تنازعہ کیس کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھڑکانے والا بیان دینے کے الزام میں پیر کے روز شکایت درج کرنے کے بعد حامیوں نے ٹویٹر میں کھرام مچادیا تھا۔
جہانگیر آباد پولیس اسٹیشن میں ایک وکیل پون کمار یادو کے ذریعہ دائر شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اویسی نے فیصلے پر اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔ انہوں نے اپنے خلاف بغاوت کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-
