مالیگاؤں میں بابائے سیاست ہارون انصاری کے نام سے منسوب ہاسپٹل کا افتتاح

مالیگاؤں(عامر ایوبی/پریس ریلیز) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے زیر اہتمام مرکزی وریاستی حکومت کے توسط سے قومی شہری صحت مہم کے تحت 5,کروڑ روپیوں کے تخمینے سے 30,بیڈ کے ایک ہاسپیٹل کا سنگ بنیاد رکھا گیا اس تقریب سنگ بنیاد کی صدارت پروٹوکول کیمطابق میونسپل میئر شیخ رشید صاحب کے سپرد رہی جبکہ سنگ بنیاد مالیگاؤں سینٹرل کے رکن اسمبلی آصف شیخ رشید کے ہاتھوں رکھا گیا.

اس تقریب سنگ بنیاد پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے میئر محترم شیخ رشید صاحب نے کہا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہیکہ ہمارے پیش رو حاجی شبیر احمد کے زمانے میں سروے نمبر 94,کی اراضی خریدی گئی تھی جس وقت یہ اراضی خریدی گئی اس وقت میری کونسلر شپ کی پہلی ٹرم تھی اور تب ہی اس اراضی کو سول ہاسپیٹل کیلئے مختص کیا گیا تھا شیخ رشید صاحب نے بیتے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے میں میسا کے تحت جیل میں بند تھا الیکشن کے ایام تھے الحاج ہارون احمد انصاری نے مجھے ضمانت پر رہا کروایا اور اسی وقت میونسپل کونسل کے الیکشن میں امیدواری بھی دی اور میں کونسلر بن گیا خوش قسمتی سے جس وقت میں میئر بنا کارپوریشن میں مجھے یہ بتلایا گیا کہ حکومت کے محکمۂ قومی شہری صحت مہم کے تحت 5,کروڑ روپیئے محفوظ ہیں تب ہم نے کاغذی خانہ پری مکمل کی اس اسکیم کے تحت حکومت کے طے شدہ نقشے اور ڈیزائن کیمطابق ہاسپیٹل کی تعمیر کے کام کو آگے بڑھایا اور میونسپل جنرل بورڈ میٹنگ میں اس مجوزہ ہاسپیٹل کا نام اپنے سیاسی استاد الحاج ہارون احمد انصاری صاحب کے نام منسوب کرنے کی تجویز کو منظوری دی انہوں نے بتلایا کہ حالانکہ مرکزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے جب کارپوریشن میں اس اسکیم کو لاگو کیا گیا اس وقت حاجی ابراہیم سیٹھ میئر تھے لیکن انہوں نے کوئی بھی کاروائی انجام نہیں دی تھی اس کے برعکس ہم نے ممبئ،پونہ کے دفتروں کے چکر لگا کر کاغذی خانہ پری کرکے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے کی کوشش کی اور آج وہ دن نصیب ہوا کہ اپنے استاد کو خراج عقیدت پیش کرسکوں.

شیخ رشید صاحب سے قبل رکن اسمبلی آصف شیخ رشید صاحب نے کہا کہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی مالی حالت خراب ہے لیکن اس کے باوجود کارپوریشن آفیسران تعمیری کام میں کوتاہی برتنے کا کام کرتے ہیں کسی بھی فائل کو آگے بڑھانے میں انتہائی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ بات میں کسی پر تنقید کیلئے نہیں بلکہ شہر میں تعمیری کاموں کی پایۂ تکمیل کیلئے کہہ رہا ہوں کیونکہ اگر کارپوریشن میں ذرائع آمدنی محدود ہیں تو حکومت کی اسکیموں کے ذریعہ ہم مختلف مدوں میں فنڈ حاصل کرسکتے ہیں لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہیکہ کارپوریشن آفیسران کوتاہی کرتے ہیں.

ڈپٹی میئرسکھارام گھوڑکے نے کہاکہ حاجی شبیر سیٹھ نے یہ زمین سول ہاسپیٹل کیلئے خریدی تھی لیکن اس وقت سول ہاسپیٹل نہیں بن سکا مگر آج اس زمین کا استعمال اسی مقصد کیلئے عمل میں آرہا ہے اور اسکے لئے میں شیخ رشید صاحب کو مبارکباد دینا چاہوں گا کہ انہوں نے گرودکشنا کے طور پر اس کام کو انجام دیا ہے.

میونسپل کارپوریشن کے سٹی انجینئر کیلاش بچھاؤ نے قومی شہری صحت مہم کے تحت فنڈ کی حصولیابی،کاغذات کی خانہ پری،سے لیکر الحاج ہارون احمد انصاری ہاسپیٹل کے سنگ بنیاد تک تمام تر امور کی تفصیل بیان کی.

الحاج ہارون احمد انصاری ہاسپیٹل کے سنگ بنیاد کی سرکاری تقریب سے پہلے غیر رسمی گفتگو کے دوران کانگریس ترجمان صابر گوہر نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے بتلایا کہ حاجی شبیر احمد حاجی غلام رسول نے سروے نمبر 94,کی زمین خریدی کیساتھ ہی سول ہاسپیٹل کیلئے مختص کیا تھا لیکن مالیگاؤں کو ضلع کا درجہ نہ ہونے کی وجہ سے سول ہاسپیٹل کی تعمیر ممکن نہیں تھی اس کے باوجود شبیر سیٹھ نے علی اکبر ہاسپیٹل اور سٹانہ روڈ ہاسپیٹل کے ذریعہ طبی خدمات کو انجام دینے کے فرائض کو پورا کیا لیکن جب 2006 کے بعد کانگریس کی مرکزی حکومت نے مالیگاؤں میں سول ہاسپیٹل کیلئے فنڈ ریلیز کیا تو سب سے پہلے اسی زمین کا معائنہ کیا گیا اس وقت ڈی جی فلپ صاحب مالیگاؤں کارپوریشن کے کمشنر تھے مرکزی اور ریاستی حکام نے اس جگہ کو ناکافی قرار دیا تب سول ہاسپیٹل کی موجودہ جگہ کو فائنل کیا گیا بہرحال سروے نمبر 94,کی جگہ جو ہاسپیٹل کیلئے مختص تھی وہاں ہاسپیٹل تعمیر کرنے کیلئے حاجی شبیر سیٹھ نے جو خواب دیکھا تھا اس خواب کو شیخ رشید نے تعبیر دیتے ہوئے اپنے استاد محترم کے نام ایک ہاسپیٹل کو منسوب کرکے انہیں سچا خراج عقیدت پیش کیا ہے.

صابر گوہر نے کہا کہ جو جگہ ہاسپیٹل کیلئے مختص تھی تقریباً 35,برسوں بعد وہاں ہاسپیٹل تعمیر ہورہا ہے جس سے آس پاس کی بستیوں اور جھوپڑپٹی کے علاقوں کی طبی ضروریات مکمل ہونگی لیکن یہ بھی ایک اتفاق ہیکہ جہاں برسوں بعد ہاسپیٹل کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے اس تقریب سنگ بنیاد پر الحاج ہارون احمد انصاری کے برادر خورد عبدالصمد انصاری،فرزند نہال احمد ہارون انصاری ،بہنوئی مشتاق احمد MA کے علاوہ دیگر افراد خانہ بھی شریک تھے جبکہ اسٹینڈنگ چیئرمن جے پرکاش جناردن بچھاؤ،ڈپٹی کمشنر نتن کاپڑنیس،سٹی انجینئر کیلاس بچھاؤ،شہری سکریٹری شری دھسے،خالد پرویز یونس عیسیٰ ،سلیم انور، جیوتی دیپک بھونسلے، سعدیہ لئیق احمد،سابق میئر طاہرہ شیخ رشید،قمروالنساء محمد رضوان،کے علاوہ وارڈ نمبر 13,کے کارپوریٹر و پربھاگ نمبر 3,کے چیئرمن فاروق فیض اللّٰہ قریشی،کارپوریٹر ظفر احمد احمد اللّٰہ ،سلیمہ سید سلیم،پپو اناؤنسر،شفیق زمین والا، عبدالعزیز ملا،نظیر بھائی پھلی والے،فقیرا شیخ لقمان، جمیل کرانتی،اسلم انصاری،شکیل جانی بیگ کے ہمراہ کانگریس پارٹی کے ورکروں کے علاوہ جعفر نگر،گولڈن نگر،نئی بستی،اور اطراف کے لوگ بڑی تعداد میں شریک تھے

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading