مالیگاؤں :(راست) مہاراشٹر کی بی جے پے حکومت نے مہاوترن کمپنی کو نجکاری اور پرائیویٹ کمپنی کو دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ساتویں مرتبہ ٹینڈر جاری کردیا ہے اس ٹینڈر کی تکمیل آخری مراحل میں ہے اگر اب بھی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کیخلاف شدید احتجاج نہیں کیا گیا تو پھر مالیگاؤں کے پاور کنزومروں کیساتھ ساتھ پاورلوم صنعت اور دیگر کاروبار کو تباہی سے نہیں بچایا جاسکتا
مہاوترن کمپنی کی نجکاری کے سلسلے کانگریس ترجمان صابر گوہر نے بتلایا کہ مہاراشٹر کی موجودہ حکومت گذشتہ دوبرسوں سے مالیگاؤں،ممبرا اور اکولہ کے بجلی نظام کو مہاوترن سے لیکر پرائیویٹ کمپنیوں کو دینے کیلئے ٹینڈر جاری کررہی ہے
لیکن حکومت میں شامل بی جے پی ممبران اسمبلی کے احتجاج پر اکولہ کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا اور مالیگاؤں اور ممبرا کے ٹینڈر جاری کئے گئے مالیگاؤں کے رکن اسمبلی آصف شیخ رشید اور ممبرا کے جیتندر آہواڑ نے حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران ودھان بھون کی سیڑھیوں پر مشترکہ احتجاج کیا اس سے قبل بھی مقامی رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے اسمبلی اجلاس میں شدت کیساتھ اپنا احتجاج درج کروایا اس کے باوجود حکومت کی طرف سے مہاوترن کمپنی کو پرائیویٹ کمپنی کے ہاتھوں دینے کا فیصلہ اٹل سمجھا جارہا ہے اسلئے مقامی کانگریس نے 14,دسمبر کو مشاورت چوک سے ایڈیشنل کلیکٹر آفس تک ایک زبردست ہلہ بول مورچہ کا اعلان کیا ہے
مہاوترن کمپنی کو نجکاری سے روکنے کیلئے شدید احتجاج کی ضرورت کے پیش نظر مالیگاؤں شہر کی پاورلوم صنعت اور دیگر کاروبار وتجارت کو بچانے کیلئے ضروری ہیکہ اہلیان شہر اینے آپسی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس احتجاج میں شامل ہوں،گذشتہ روز شہر کی کئی پاورلوم تنظیموں کے علاوہ مالیگاؤں سائزنگ اونرس ایسوسی ایشن نے بھی مقامی رکن اسمبلی کو حمایت کا مکتوب دیا ہے لیکن سائزنگ مالکان کے نیشنل گرین ٹریبونل میں جیت حاصل کرنے پر علامہ اقبال پل پر رات کے اندھیرے میں استقبال کرنے والی مقامی این سی پی اور ان کے لیڈر مہاوترن کمپنی کی نجکاری پر اب تک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ بی جے پی حکومت کے اس فیصلے سے پاورلوم صنعت کے تباہ ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اسلئے مقامی این سی پی کو اس موضوع پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیئے.اسطرح کا پریس نوٹ محمدصابر گوہر ترجمان و میڈیا انچارج مالیگاؤں شہر (ضلع) کانگریس کمیٹی نے جاری کیا.