بال ٹھاکرے نہ ہوتے تو ہندوؤں کو بھی پڑھنی پڑتی نماز:شو سینا

ممبئی: شو سینا نے شواجی یادگار کی تعمیر کو لے کر جمعہ کو بھاجپا کی قیادت والی مہاراشٹر سرکار پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ کہ چھترپتی شواجی اور بالا صاحب ٹھاکرے یادگار کا کیا استعمال ہے ؟ چھترپتی شوا جی مہاراج نہیں ةوتے تو پاکستان کی سرحد تمہاری دہلیز تک آگئی ہوتی اور بالا صاحب ٹھاکرے نہیں ہوتے تو ہندوؤں کو بھی نماز پڑھنی پڑتی ۔ پارٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک بار پھر شواجی یادگار کی تعمیر روک دی ہے ۔ یہ بار بار ہورہا ہے جس سے یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ کیا سرکار یادگار بنانے کو لے کر سنجیدہ ہے ؟

مہاراشٹر اور مرکز میں بھاجپا کی قیادت والی سرکار کی حمایت کرنے والی پارٹیوں نے کہا کہ گجرات میں نرمدا ندی کے کنارے بنا کسی ماحولیاتی یا ٹیکنیکل مدعے کے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مجسمے کی تعمیرکی گئی ۔ سرکار نے جنرل طبقہ کے اقتصادی طور سے کمزور لوگوں کو 10 فیصدی ریزرویشن دینے کیلئے آئین میں ترمیم کی اور اسی طرح تین طلاق کا مدعہ حل کیا جبکہ ایودھیا میں رام مندر اور ممبئی میں شواجی یادگار کی تعمیر کا مدعا اب بھی نہیں سلجھا ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading