مالیگاؤں 4 دسمبر (عامر ایوبی) ہر سال چھ دسمبر آتے ہی بابری مسجد کی شھادت کا غم تازہ ہوجاتا ہے مالیگاؤں میں مسلسل چھبیس برسوں سے بابری مسجد بچاؤ کمیٹی اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی آئی ہے اور احتجاج کرتی آئی ہے اس سال بھی اس سلسلہ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس ضمن میں بابری مسجد بچاؤ کمیٹی کے رکن و جنتادل سیکولر کے جنرل سیکرٹری مستقیم ڈگنٹی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ملک میں سیکولر اقدار اور گنگا جمنا تہذیب کی علامت سمجھی جانے والی بابری مسجد پر فرقہ پرست طاقتوں کی عرصہ دراز سے بری نظر رہی وقتاً فوقتاً بابری مسجد کی عمارت کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع فرقہ پرستوں نے نہیں گنوایا
80 کی دہائی میں بابری مسجد کو لے کر فرقہ وارانہ منافرت کو خوب بھڑکانے کا کام ان ملک دشمن طاقتوں کی جانب سے کیا گیا. 90 کی دہائی شروع ہوتے ہوتے بابری مسجد پر شدید خطرہ منڈلانے لگا اس خطرے کو بھانپتے ہوئے جہاں دیدہ قائد ساتھی نہال احمد نے مالیگاؤں سے آواز بلند کی کہ بابری مسجد کو فرقہ پرستوں سے شدید خطرہ لاحق ہے اپنی آواز کو ایوانِ بالا تک پہنچانے کیلئے نہال احمد نے 19 جولائی 1992 کو ایک زبردست احتجاجی جلوس نکالتے ہوئے مرکز کی کانگریس سرکار سے یہ مانگ کی کہ ملک دشمن فرقہ پرستوں سے بابری مسجد کی حفاظت کی جائے نہال احمد کی اس دور اندیشی کو مرکز کی نرسمہا راؤ سرکار نے نظر انداز کردیا
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دسمبر 1992 کو دن کے اجالے میں، مرکزی فوج کی آنکھوں کے سامنے بابری مسجد شہید کردی گئی تب سے لے کر آج تک مالیگاؤں شہر اپنے لیڈر کے بتائے ہوئے طریقے سے بابری مسجد شہید کرنے والوں کے خلاف احتجاج کرتا رہا ہے ساتھی نہال احمد کی احتجاجاً اپنے بازو پر باندھی گئی کالی فیت اُن کے ساتھ دفنائی گئی ساتھی بلند اقبال بھی شہادتِ بابری مسجد کے خلاف صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے رہے
گذشتہ سال ہونے والے احتجاج میں قائدِ انقلاب نے اپنی علالت کے باوجود بذریعہ فون شہریان سے خطاب کیا تھا اس تناظر میں گذشتہ روز جنتادل سیکولر آفس پر ہونے والی بابری مسجد بچاؤ کمیٹی کے اراکین کی میٹنگ میں یہ طئے کیا گیا کہ مالیگاؤں شہر کی اس تحریکی شناخت کو جِلا بخشنے کیلئے اور بابری مسجد کی شہادت کے گنہگاروں کو قرار واقعی سزا ملے اس مطالبے کو لے کر آنے والے 6 دسمبر، جمعہ کے دن دوپہر تین بجے سے شام پانچ بجے تک بابری مسجد بچاؤ کمیٹی کے بینر تلے ایک احتجاجی دھرنا شہیدوں کی یادگار کے پاس دیا جائے گا اس احتجاجی دھرنے کی قیادت ایم ایل اے مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی کریں گے