مائک پر اذان،ھماری حکمت عملی اور ذمہ داریاں

عبدالکریم سالار،جلگاوں،9423187515

آج کل اخبارت اور واٹس ایپ پر مسجدوں سے مائک پر اذان دینے کے معاملے کو لیکر لوگوں میں کچھ مقامات پر پریشانی پائی جارھی ھے۔جس کے بارے میں اخبارات میں قابل احترام عالم دین حضرات کے مراسلے شائع ھوئے ھیں تو کہیں وکلاء حضرات سے لوگ رجوع ھوئے ھیں۔وکلاء حضرات نے قانونی نقطہ نظر سے لوگوں کی جو رھنمائ کی ھے وہ سو فیصد اپنی جگہ صحیح ھے۔اور انھوں بہت اچھے اور واضح انداز میں اپنی بات رکھی ھے۔دوسری طرف ایشیا ایکسپریس اس اخبار میں ایک عالم دین کا مراسلہ بھی شائع ھوا ھے جس میں حضرت نے بھی بہت اچھی رہنمائی کی ھےاور موجودہ حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حکمت عملی کے تعلق سے بہت ساری کارآمد باتیں بھی بتلائی۔جہاں تک مائک پر اذان دینے کا مسلہ ھے اس پر نظر ثانی اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ھے۔

لاک ڈاون اور کرفیو کے فیصلے کے بعد تمام شہریوں پر بہت ساری پابندیاں عائد کی گئی۔جس سے آپ سب اچھی طرح واقف ھیں۔اس میں ایک پابندی عام لوگوں کا مذہبی مقامات پر جمع ھونے پر پابندی کا ھے۔جس کے تحت کسی بھی مذہبی مقام پر یا عبادت گاہ میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ھوکر عبادت نہی کر سکتے۔لہذا تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں چند افراد ھی اپنی مذھبی رسومات اداکرتے نظر آرھے ھیں۔مساجد میں بھی امام صاحب کے ساتھ تین/ چار افراد نماز باجماعت کا اھتمام کررھے ہیں۔ (حالانکہ کئی مقامات پر جو بھائی کبھی مسجد میں جمعہ کے سوا مسجد میں نہیں آتے تھے،وہ بھی مسجدوں میں ھی نماز پڑھنے پر بضد نظر آئے۔)
حالانکہ یہ ان کے ایمانی جزبہ کا اظہار ھے۔کیونکہ انھیں اسلام اور دین کی مکمل معلومات نہیںھے۔انھیں نہیں معلوم کہ وباء پھیلی ہوئی ھو تو حضورصلی اللہ کے کیا احکامات ھیں؟ایسے حالات میں آپ صلی علیہ وسلم نے امت کی کیا رہنمائی کی ھے؟ ان سے انہیں واقفیت نہیں ھے۔لیکن ان کے جذبے کا ھمیں احترام کرنا چاہیئے۔ بحرحال۔۔ ھم نماز تو پڑھ رھیں ھے گھروں پر، مگر کئی لوگ کہتے ہیں کہ اذان مائک پر ھی دی جائے۔حالانکہ کئی مقامات پر پولیس کی طرف سے مائک پر اذان دینے سے روکا نہیں گیا ھے۔کہیں پر پولیس نے زبانی طور پر مائک پر اذان دینے سے منع بھی کیا ھے۔
میری اپنی ذاتی سوچ میں اگر ھم مسجد میں نماز کے لئے نہیں جارھے ھیں تو مائک پر اذان کا کیا فائدہ؟بلکہ آپ تھوڑی سنجیدگی سے سوچیں اور غور کیجئے کہ پورے شہر میں تمام مندروں پر کہیں بھی آپ کو بھجن کرتن مائک پر سنائی نہیں دے رھا ھے ۔اب پورے شہر اور گاوں میں سناٹا ھے اور مسجدوں سے مائک پر ادانوں کی آوازیں بلند ھورھی ھیں تو اس موقع کا فائدہ اٹھا کر احیاء پرست لوگ عام ھم وطن بھائیو کے دلوں میں ھمارے بارے میں منافرت پھیلانے کام کررھے ھیں۔کہ دیکھو ۔حکومت نے تو آپ کے مندروں کو تالے لگوا دیئے ،بجھن کرتن بند کروا دیئے اور ادھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
لہذا جن جن ذم داران قوم نے مسلمانوں کے تعلق سے عام برادروطن کے دل میں منفی سوچ پیدا نہ ھو،محض اس نیت سے اگر وہ مائک پر پابندی نہیں ھونے کے باوجود بھی اگر بغیر مائک کے اذان دے رھے ھیں تو ھم ان کی سوچ کو سلام کرتے ہیں۔ کیوں کہ یہ بزدلی نہیں، حکمت عملی ھے۔ہاں نماز کے وقت مائک پر نماز کا وقت ھوگیا ھے ایسا اعلان کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ جب لاک ڈاون ختم ہوگا انشاء اللہ پھر مائک پر اذانوں کی آوازوں کی گونج سنائی دے گیں ۔
کچھ میڈیا والوں نے دلی
مرکز کو لیکر جھوٹی باتیں پھیلاکر ،جماعت، کی آڑ میں کورونا وائرس کے بارے میں جو ھماری پہچان بنائی،اس کے نتائج ھم سب پر واضح ھیں۔میڈیا کھلے عام وبائی قانون کو بالائے طاق رکھ کر مریضوں کی تعداد میں "جماعتی” کی تعداد بتلا کر منافرت پھیلانے کا کام لگاتار کررہا ھے۔ایسے میں احیاء پرستوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئیے ھماری ذمہ داری اور زیادہ بڑھ جاتی ھے۔
یہ بات بھی قابل غور ھے کہ ایک طرف ھمارے اطراف نہایت ھی سنگین حالات پیدا ھو گئے ہیں تو دوسری طرف قوم کا ایک بڑا طبقہ ان سب سے بے نیاز اپنی الگ دنیا میں مگن ھیں۔
دلی،یوپی،اندور،کھنڈوا،دھاراوی،اورنگ آباد، مالیگاوں،بلڈانہ، دھولیہ،احمد آباد،سورت وغیرہ علاقوں کی اگر آپ خبر لیں اور اگر ایمانداری سے جائزہ لیں تو آپ حیرت کریں گے کہ *جس نبی نے پوری دنیا کو ساڑے چودہ سو سال پہلے وباء کے پھیلنے پر واضح رہنمائی فرمائی وہ ” لاک ڈاون” ھی تو ھے مگر اسی نبی کے ماننے والے ھی اس غفلت برتنے والوں میں سب سے آگے آگے نظر آرھے ھیں*۔بار بار ذمہ دار،بزرگ اور سمجھدار لوگ نوجوانوں کو بھیڑ بھاڑ کرنے سے منع کررھے ھیں،لیکن کوئی اثر نہیں!! پولیس کی گاڑی آنے پر گلیوں میں غائب،،پولیس کی گاڑی جاتے ھی پھر جیسے تھے۔یہاں تک کہ پولیس بھی تنگ آگئی ھے۔اور سب جانتے ہیں کہ پولیس کےمنفی نظریے کہ نتائج کیا ھوتے ھیں؟
میں نے اس سے قبل بھی یہ بات کہی ھے کہ ھماری لڑائی دو وائرس سے ھے،ایک "کورونا وائرس” اور دوسرا”کمیونل وائرس”۔ موجودہ بقید حیات بزرگوں نے اپنی زندگی میں شاید ایسے حالات دیکھیں ھوں جیسے آج ھم دیکھ رھے ھیں ۔آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس دور کے نوجوانوں اور ذمہ داران کے کندھوں پر مستقبل کے حالات سے مقابلہ کرنے کی کتنی بڑی ذمہ داری ھے۔اس کورونا وائرس وبائی دور کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ظاہر ھے اس آزمائشی اور صبر آزما دور میں ھر کسی کا رول تاریخ میں درج ھوگا۔لہذا کچھ ایسے کارہائے نمایاں انجام دو کہ ھماری آنے والی نسلیں اپنے بزرگوں پر فخر کریں ناکہ ان کا سر شرم سے جھک جائے۔

رمضان شروع ھوگئے ھیں۔اور ایسے میں رمضانی بھائیوں کو سنبھالنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔احیاء پرست تاک میں بیٹھے ہیں کہ لاک ڈاون میں کب ھماری افطار پارٹیوں ،گھروں کی چھتوں پر بڑی تعداد میں جماعت کی تصویریں،کالونیوں کے کمپاؤنڈ میں جماعتوں کا اھتمام ھمارے نوجوانوں کے کباب اور سموسوں کی تلاش میں نکلے قافلےاور چائے خانوں پر چسکیاں لیتی ہوئی بھیڑ وغیرہ کی تصاویر ۔”ارنب”جیسے میڈیا والے کو دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی سازش کریں گے کہ دیکھیئے یہی ھے وہ لوگ جنکی لاپرواہی سے آج ھمیں یہ دن دیکھنے پڑ رھے ھیں۔نتائج۔۔۔۔۔
گاؤں گاؤں،دیہات قصبوں اور شہروں میں نفرت کا وہ ماحول بنانے کی کوشش کرینگے کہ جس کے تصور سے روح کانپ جاتی ھے۔اللہ انھیں ناکام کریں اور ھمیں سنجیدگی عطا کرے۔آمین۔۔۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading