لوک سبھا انتخابات سے پہلے پھر ہوسکتا ہے پلوامہ جیسا دہشت گردانہ حملہ : راج ٹھاکرے

مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس)کی تشکیل کے 13سال مکمل ہونے پر منعقد ہ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کہا کہ لوک سبھا کے انتخابات سے قبل ایک بار پھر پلوامہ جیسا واقعہ کیے جانے کاامکان ہے اور لوک سبھا الیکشن لڑنے کے بارے میں جلد ہی ایک مناسب فیصلہ کیا جائے گا اور اس میں نشستوں پر بھی فیصلہ ممکن ہوگا۔

 

راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ ایم این ایس کو اس عرصہ میں کئی اتار چڑھاو کا سامنا کرنا پڑا ہے ،لیکن ایم این ایس ورکرس نے جس طرح ان کا ساتھ دیا ہے ،وہ قابل ستائش ہے۔انہوں نے بی جے پی کے لیڈران کی ایم این ایس کے بارے میں قیاس آرائیوں پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران اس طرح کی بحث میں مشغول ہیں کہ ایم این ایس کی حکمت عملی کیا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ وہ پلوامہ کے حملہ پر دیئے گئے اپنے بیان پر قائم ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل اس قسم کا دوبارہ واقعہ دہرایا جائے ،مودی اور امت شاہ اپنے آئی ٹی سیل کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ راج ٹھاکرے کا کہنا ہے کہ ڈوکلام پیش آنے پر بی جے پی نے چین کے سامان کے بائیکاٹ کا نعرہ لگا یا ،لیکن گجرات میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ چین میں ہی بنوایا ہے ،ہر کسی کو ملک دشمن کہنے والے خود عجیب وغریب حرکتیں کرتے ہیں۔انہوں نے 25 دسمبر2015کا ذکر کیا کہ مودی نے اچانک لاہور پہنچ کر نواز شریف کی سالگرہ کے جشن میں شرکت کی ،لیکن سات دن بعد ہی پٹھان کوٹ میں دہشت گردانہ حملہ پیش آیا اور اس کے تین مہینے بعد ہی چار ریاستوں کے اسمبلی الیکشن ہوئے تھے۔رافیل کے کاغذات کے چوری ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ چوری کی بات سپریم کورٹ میں تسلیم کیے جانے کے بعد بہانہ بنایاجارہا ہے کہ اس کی کاپی چوری ہوئی ہے ،اس طرح مودی حکومت روز جھوٹ بول بول کر پھنس رہی ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading