ریاست مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں جانوروں (بھینس، گائے، بکری، بیل وغیرہ) میں جلد کی بیماری پائی گئی ہے، جسے Lumpy Skin Disease (LSD) کہا جاتا ہے. یہ بیماری ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے جسکا نام کاپریپوکس وائرس (Capripox Virus) ہے. سب سے پہلے یہ بیماری اپریل 2020 میں گڈچرولی ضلع میں پائی گئی، جس کی وجہ سے اس ضلع کے تقریباً تیرہ سو جانور بیمار ہوئے. اب تک پوری ریاست میں تقریباً 93 ہزار سے زائد جانور اس بیماری کی چپیٹ میں آچکے ہیں. چندرپور میں سب سے زیادہ جانور بیماری کا شکار ہیں. State Animal Husbandry کے مطابق چندرپور میں اب تک 50 ہزار سے زائد جانور لمپی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں، چندرپور کے بعد ناگپور، وردھا، گوندیا، گڈچرولی، ناندیڑ اور پربھنی شہروں میں یہ بیماری رکارڈ کی گئی ہے.

اس بیماری کو جانوروں میں پھیلے ہوئے چار ماہ سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے اور حکومت اس بیماری کا علاج بھی کر رہی ہے اب تک 93252 بیمار جانوروں میں سے 67035 جانوروں کا علاج کیا جا چکا ہے.
لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اس بیماری کے تعلق سے غلط اور جھوٹ پر مبنی خبریں عام کی جا رہی ہے ایسی ایسی تصویریں وائرل ہو رہی ہیں جن کا لمپی بیماری سے کوئی تعلق نہیں اس غرض سے یہ تصدیق شدہ پوسٹ آپ تک پہنچائی جا رہی ہے تاکہ جھوٹ پر مبنی خبروں کا ازالہ ہو سکے، کسی چیز بھی بیماری سے احتیاط کرنا ضروری ہے لیکن ایسا نا ہو کہ صرف جھوٹ کی بنا پر ہی ہم حلال چیز کو اپنے اوپر یہ کہہ کر حرام کر دیں کہ یہ کچھ دن تک ہمارے لیے کھانا ٹھیک نہیں تو یہ درست نہیں ہوگا…
اس بیماری کے تعلق سے اب تک جو تحقیقات ہوئی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
🔹 یہ بیماری صرف جانوروں میں پائی جاتی ہے یہ Zoonotic بیماری نہیں ہے، Zoonotic بیماری اس بیماری کو کہا جاتا ہے جو جانوروں سے انسانوں میں یا انسانوں سے جانوروں میں پھیلتی ہے، اس لیے جانور کا گوشت اور دودھ بیماری پھیلانے کا ذریعہ نہیں بنتا ہے.
🔹 کچھ لوگ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بہت وائرل کر رہے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ جانوروں کی لمپی بیماری انسانوں میں بھی پھیل رہی ہے یا جانوروں کی بیماری انسانوں میں داخل وغیرہ وغیرہ اور اس خبر کے ساتھ فوٹو بھی شیئر کیے جا رہے ہیں جبکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ لمپی بیماری نہیں بلکہ Eczema Dermatitis ہے جو بہت عام انفیکشن ہے.
🔹 لمپی بیماری کا Morbidity تقریباً 20 فی صد ہے مطلب ہر 100 میں سے 20 فی صد جانور لمپی بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں
🔹 لمپی کا Mortality Rate ایک فی صد ہے
🔹لمپی بیماری میں وائرس جانوروں کی جلد پر 2-5 سینٹی میٹر قطر، گول ، جلد والے گانٹھوں کی طرح ہوتا ہے، اس کے علاوہ جانور کے منہ میں بخار ، گھاووں اور دودھ کی پیداوار کو کم کرتا ہے۔
🔹 ریاست مہاراشٹر کی Animal Husbandry ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ اس بیماری کا علاج شروع ہے اور اس کی دوائی بھی مارکیٹ میں مہیا ہے.
اس لیے جو حضرات لمپی بیماری سے اپنے آپ کو خوف زدہ کر رہے ہیں وہ پریشان نہ ہوں، لمپی جانوروں تک ہی محدود ہے اسے سمجھ لیں اور جو لوگ جھوٹی خبروں کی وجہ سے گوشت کو خیر باد کہہ چکے ہیں انہیں کہے کہ گوشت کے ساتھ ساتھ دودھ سے بھی دوری بنائے رکھیں یا پھر جھوٹی خبروں سے دوری بنائیں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے. اور ساتھ ہی ان اخبارات میں لکھنے والوں تک بھی یہ بات پہنچائیں کہ لکھنے سے پہلے کسی بات کی تصدیق کر لیا کریں!!
(برائے مہربانی اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ جانوروں میں پھیلی لمپی بیماری سے متعلق جھوٹ کا ازالہ ہو سکے، لوگوں کا خوف اور پریشانی ختم ہوسکے!!!)
