لاک ڈاون کے باوجود قربانی کا بکرا سوا 7 لاکھ میں فروخت

wp-image-1439645470
file photo

بھوپال :کورونا قہر اور بڑھتی مہنگائی کے بیچ جہاں عام انسانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوگیا ہے وہاں پر لاکھوں کی بات سوچنا بھی بے معنی ہے۔ عید قرباں کے نزدیک آتے ہی پہلے کی طرح بکروں کے بازارشہرمیں اب تک کھل نہیں سکے ہیں لیکن کچھ تاجروں نے آن لائن بکروں کی خرید و فروخت شروع کردی ہے ۔
بھوپال میں عید قرباں کے موقع پر کچھ خاص بازار سج کرتیار ہوجاتے ہیں ۔ عید الفطر کے بعد ہی ان بازاروں میں بکروں کی خرید وفروخت شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ بازارجنسی ،شبن چوراہا،بڑا باغ،اتوارہ ،میدامل میدان میں تو لگائے ہی جاتے ہیں رسول احمد صدیقی چوراہا چار بتی پر تو عید قرباں کے موقع پر رات میں بھی بکروں کا بازار لگتا ہے جہاں بکروں کے شوقین رات بھر بکروں کی خرید وفروخت کرتے پہلے نظر آتے تھے مگر اس بار کورونا قہر کے چلتے سارے بازار کی رونقیں معدوم ہوگئی ہیں ۔
بھوپال کے آصف علی بکروں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں ۔ قربانی کے لئے وہ ہر سال خاص بکروں کو تیار کرتے ہیں ۔ امسال بھی انہوں نے خاص بکرا تیار کیا ہے ۔ آصف کا تیار کردہ دس بیس کلو کا نہیں بلکہ ایک سو چھیہتر کلو کا ہے ۔ آصف اس بکرے کو روز دودھ پلانےکے ساتھ بادام بھی کھلاتے ہیں ۔آصف علی بھوپال کے قاضی کیمپ میں رہتے ہیں اور امسال ان کے بکرے کی آن لائن قیمت سات لاکھ پچیس ہزار روپیہ لگائی گئی ہے۔ آن لائن بکرے کو خریدنے والے ملک کے بہت سے صوبوں کے لوگ آئے لیکن اس کی سب سے زیادہ قیمت لگا کر پونہ   کے شخص نے خریدا ہے ۔
آصف کا تیار کردہ بکرا ایک سو چھیہتر کلو کا ہے ۔بکرے کی عمر دیڑھ سال بتائی جاتی ہے۔ آصف اس کی روز مالش کرنے کے ساتھ اسے کی خوراک کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ آصف کہتے ہیں کہ بکرا دودھ بھی پیتا ہے اور بادام بھی کھاتا ہے اور روز آنہ یہ تین سے چار لیٹر دودھ پیتا ہے ۔آصف علی کہتے ہیں کہ ہر سال وہ قربانی کے لئے تیار کردہ اپنے بکروں کی نمائش لگاتے تھے لیکن اس بار کورونا قہر کے سبب بکروں کی نمائش لگانا تو ممکن نہیں ہے اس لئے انہوں نے بکرے کی فروخت کے لئے آن لائن کا سہارا لیا اور سب سے زیادہ قیمت پونہ کے تاجر ثقلین نے لگائی ہے ۔ بکرا آن لائن سات لاکھ پچیس ہزار میں فروخت کیا گیا ہے۔آصف کہتے ہیں کہ ہر سال بکرے کے پیچھے اتنی محنت اس لئے بھی کرتے ہیں کیونکہ اس جو انکم ہوتی ہے اس کا ایک بڑا حصہ وہ غریبوں کی تعلیم کے لئے مخصوص کردیتے ہیں اور جب انہیں کسی بچے کی فیس کے متعلق معلوم ہوتا ہے تو خاموشی سے جاکر اسکول میں فیس جمع کردیتے ہیں اور کوئی غریب بچہ جو پڑھنے میں اچھا ہے لیکن مفلسی کے سبب اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوتا ہے کہ اس کی خاموشی سے مدد بھی کرتےہیں اور اس سے جتنی خوشی ہوتی ہے اس کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے ہیں ۔میرے اس شوق کو لیکر لوگ طرح طرح کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ میں بکروں کے ذریعہ اپنا کاروبار بھی کرتا ہوں اور اس سے ہونے والی آمدنی سے لوگوں کی مدد بھی خاص مقصد ہوتا ہے۔
وہیں اس خاص بکرے کو خریدنے والے پونہ کے ثقلین بتاتے ہیں کہ اس بکرے کو سات لاکھ پچیس ہزار روپیہ میں انہوں نے خریدا ہے اور اس بکرے کی وہ قربانی کرینگے ۔ ثقلین کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں نوازہ ہے تو وہ ہر سال ملک سے بہترین قسم کا بکرا خریدتے ہیں ۔ اس بار ان کی پسند کا خاص بکرا انہیں بھوپال میں ملا ہے ۔ ثقلین کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اس خاص بکرے کے بکرے میں سوشل میڈیا پر سنا تو انہیں یقین نہیں ہوا۔پھر آن لائن بکرے کی خرید کے لئے شامل ہوئے اور اس کی قیمت اداکر کے اب اسے لے جانے کے لئے بھوپال آئے ہیں ۔ بکروں کو پونہ لے جاکر اس کی خدمت کرینگے پھر عید قرباں کے موقع پر اس کی قربانی کرینگے ۔
آصف علی کا تیار کردہ بکرا گزشتہ سال بھی ملک میں شہرت کا حامل بنا تھا۔ سال دوہزار انیس میں آصف علی کا بکرا ایک سو ستاون کلوکا تھا اور اسے انہوں نے نمائش لگا کر فروحت کیاتھا۔ آصف اس کی نمائش اس لئے بھی لگاتے ہیں تاکہ بکروں کا کاروبار کرنے والوں کو معلوم ہوسکے کہ جانوروں کی خدمت کیسے کرنا چاہیئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading