لاتور(محمدمسلم کبیر) ریاستی حکومت نے گذشتہ بدھ کو ریاست میں جزوی قحط سالی کا اعلان کیا پھر ساتھ ہی جمعرات کو مزید چند تعلقوں میں محصولی حلقہ جات کے لحاظ سے قحط سالی کا اعلان کرتے ہوئے لاتور ضلع کے چند محصولی حلقوں کا بھی معلنہ فہرست میں شمارکیا.لیکن قحط سالی کا اعلان جس بنیاد پر کیا جاتا ہے اس میں اس حلقے کی فصلوں کی بوائی اور اندازہ اگاہی کے علاوہ بارش کے سرسری تناسب کو مدنظر رکھا جاتا ہے.لاتور ضلع میں ان نکات کومدنظر رکھ کر سروے کیاگیا لیکن نئے سروے کے مطابق لاتورضلع کے چند محصولی حلقہ جات میں ہی قحط سالی کا اعلان کیاگیاجس سے اس حلقے کے کسان ہی ریاستی حکومت کی جانب سے ملنے والی تمام سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں تاہم ان محصولی حلقوں سے منسلک سروے نمبرس کے کسان قحط سالی سے متاثر ہونے کے باوجود حکومت کی اسکیمات سے مستفید نہیں ہو سکتے جو ان کسانوں کے ساتھ سراسر نا انصافی کے مترادف ہے اس لئے ضلع میں سروے نمبرس کے لحاظ سے قحط سالی کا اعلان کرکے کسانوں کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ لاتور ضلع راشٹروادی کانگریس کے کارگذار صدر اور اوسہ بلدیہ کے عوامی منتخبہ صدر شیخ افسر نے کیاہے.ریاستی حکومت نے کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے دوران مختلف نکات کو مدنظر رکھا اور قرضہ جات کی معافی کا اعلان کیا تو پھر ان ہی نکات کے مدنظر لاتور ضلع کے تمام تعلقہ جات میں عام قحط سالی کا اعلان کرکے ضلع کے تمام کسانوں کو راحت اوراسکیمات سے مستفیدکرنے کی درخواست صدر بلدیہ شیخ افسر نے لاتور ضلع کے وزیر رابطہ سمبھاجی راؤ پاٹل نلنگیکر کو ایک محضرہ پیش کرکے کیا ہے. انھون نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ضلع میں آبی خشک سالی سے عوام کونجات دلانے کے لئے موجود آبی ذخائر کا تحفظ اور بورویلز نصب کرنے کے لئے حکومت اقدام کرے.بلکہ لاتور ضلع میں منعقد شدنی سی ایم کپ و کلا مہوتسو کو منسوخ کرکے ان کے انعقاد پر خرچ ہونے والی لاکھوں روپئوں پر مبنی خطیر رقم ضلع کے کسانوں کےلئے مفید بیل,گائے بھینس اور بکریوں کے چارے پر خرچ کرکے کسانوں کوراحت پہنچانے کا نظم کرنے کی اپیل صدر بلدیہ شیخ افسر نواب الدین نے کی ہے.
لاتور میں سروے نمبرس کے لحاظ سے قحط سالی کا اعلان کرنے کا مطالبہ: افسر شیخ صدر بلدیہ اوسہ
ریاستی حکومت نے سن 2014 میں ریاست کے تمام اضلاع میں مستقل طور پر قحط سالی سے نجات دلانے کی خاطر تمام تعلقوں میں جلیوکت شیوار مہم کا آغاز کیا تھا جس پر حکومت نے کروڑوں روپئے صرف کئے 2015 -2016 اور 2017 میں اس اسکیم کے تحت تعمیری کام ہوئےاور اتفاقی طور پر بارش کا اوسط تناسب بھی کافی بڑھا تھا جس کے باعث حکومت کی یہ اسکیم کے کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے میں سرکار مصروف رہی تاہم امسال بارش کااوسط تناسب 50 فیصدی سے بھی کم رہا.جس کے باعث ہزاروں کروڑروپئے خرچ کرکے جلیوکت شیواراسکیم کے تحت بنائے گئے آبی ذخائر کے ذرائع آبی خشک سالی سے متاثر ہیں.ان تمام ذرائع کی مکمل رپورٹ شعبہ محصول کے پاس موجود ہونے کے باوجود ضلع میں عمومی خشک سالی کااعلان نہ کرکے کسانوں کو ان کے حقوق سے محروم اور ان زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا جارہا ہے.یہ بات کہتے ہوئے راشٹروادی کانگریس کے کارگذار صدروصدر بلدیہ اوسہ افسرشیخ نے حکومت کو اشارہ دیا ہے کہ لاتور ضلع کے تمام تعلقوں میں یکساں طور پرقحط سالی سے متاثر ہونے کا فوری اعلان کرکے کسانوں کے ساتھ انصاف کرے ورنہ مجبورا پارٹی کو راستے پر اترکر اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کرنا پڑیگا.