قریشی برادری مہاراشٹرا کا پرامن احتجاج: اپنے آئینی حقوق اور تحفظ کے لیے آواز

مہاراشٹرا میں قریشی برادری نے حالیہ دنوں میں پرامن احتجاج اور ہڑتال کی راہ اختیار کی ہے تاکہ وہ اپنے جمہوری، مذہبی اور معاشی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کو مؤثر طریقے سے اجاگر کر سکیں۔ یہ احتجاج نہ صرف برادری کے معاشی مسائل کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ اس کے پسِ پشت ایک گہرا انسانی، سماجی اور آئینی پہلو بھی ہے۔

🐄 ذبیحہ کا قانونی حق:قریشی برادری کا بنیادی مطالبہ ہے کہ حکومت جانوروں کے ذبیحہ کو قانون کے دائرے میں لا کر مکمل تحفظ فراہم کرے، تاکہ برادری کے افراد بلا خوف و خطر اپنے مذہبی فرائض اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ بھارت کے آئین میں مذہبی آزادی اور روزگار کا حق ہر شہری کو دیا گیا ہے، اور قریشی برادری اپنے انہی بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

⚠️ گاؤ رکشکوں اور شدت پسند تنظیموں کا بڑھتا ہوا خطرہ
حالیہ برسوں میں ریاست کے مختلف علاقوں میں سے مطالبات
قریشی برادری درج ذیل مطالبات کے ساتھ حکومت سے فوری کارروائی کا تقاضا کر رہی ہے:

1. قانونی ذبیحہ کے مراکز کی مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔

2. غیر قانونی گاؤ رکشک گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

3. قانونی طور پر جانوروں کی خرید و فروخت اور ذبیحہ کی اجازت دی جائے۔

4. معصوم قصائیوں اور کاروباری افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

5. پولیس فورس اور انتظامیہ کو غیر جانبدار بنایا جائے تاکہ وہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
📢 پرامن جدوجہد، آئینی دائرے میں

قریشی برادری ہمیشہ سے قانون کا احترام کرنے والی، محبِ وطن اور پرامن برادری رہی ہے۔ برادری کا احتجاج بھی مکمل طور پر آئینی دائرے اور جمہوری طریقوں کے تحت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے لیکن کسی قسم کی تشدد یا غیر قانونی عمل کی تائید نہیں کریں گے۔
:
قریشی برادری کا مطالبہ صرف ایک برادری کا مطالبہ نہیں بلکہ یہ ملک میں ہر اس طبقے کی آواز ہے جو اپنے پیشے، عقیدے اور زندگی کے تحفظ کا خواہاں ہے۔ حکومت وقت پر فرض ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے، انصاف کے تقاضے پورے کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ملک میں تمام شہریوں کو برابر کا تحفظ حاصل ہو۔

با قلم :نوید احمد قریشی ایم۔ اے۔ بی۔ ایڈ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading