قربانی

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

روزاول ہی سے انسانی معاشرے میں اپنے خالق حقیقی کے حضور قربانی پیش کرنے کا جذبہ موجود رہا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں آج بھی بہت سارے حذف و اضافہ کے باوجود قربانی کسی نہ کسی شکل میں باقی ہے۔ قربانی حقیقت میں ایک تمثیلی عمل ہے جس میں بندہ اپنے معبود کے حضور اپنے آپ کو پیش کرنے کے نام پر اپنی  محنت و مشقت سے کمائی ہوئی دولت کا کچھ حصہ خلوص اور مکمل رضامندی کے ساتھ نذر کرتا ہے۔ اس کی یہ دولت کبھی اناج کی شکل میں ہوتی ہے یا کبھی جانور کی شکل میں یا کبھی نقد رقم کی شکل میں۔ سوائے اسلام کے دنیا کے اکثر مذاہب میں قربان کی ہوئی چیزیں یا تو آگ کے حوالے کر کے ضائع کر دی جاتی ہیں یا کچھ مخصوص طبقوں کے نذر کردی جاتی ہیں، لیکن اسلام نے ایسے کسی بھی عمل سے منع کرتے ہوئے، نذر کی ہوئی اشیاء کو خود بھی استعمال کرتے ہوئے، غریب، مفلس اور لاچار انسانوں میں تقسیم کردینے کا حکم دے کر قربانی کے اس پاکیزہ جذبے کو ایک انسانیت نواز شکل دی ہے۔ درحقیقت اسلام ایک فطری دین ہونے کے ناطے دولت کے ارتکاز کی، کسی بھی حال میں اجازت نہیں دیتا، دولت کی گردش سے ہی ایک خوش حال انسانی معاشرہ وجود میں آتا ہے، یہ بات اپنے ماننے والوں کو عملی شکل میں سمجھاتے ہوئے انہیں صدقہ، خیرات، زکواۃ، قربانی اور ہدیہ کے نام پر دولت کو ایک دوسرے کے ہاتھ منتقل کرتے رہنے کی شدید تاکید کرتے رہتا ہے۔خاص کر قربانی کے عمل کو لے کر اسلام ایک اور بات بھی بتاتا ہے کہ اس عمل میں چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں، اصل تو جذبہ اور خلوص ہے، بغیر اخلاص اور سچے جذبے  کے اگر آپ اپنے آپ کو بھی قربان کردیں تو نتیجہ صفر ہی رہے گا۔انا، تکبر اور ریا کاری سے کی جانے والی قربانی،دیکھنے میں کتنی ہی جاذب نظر کیوں نہ ہو قبولیت کے شرف سے دور ہی رہے گی۔

اسلام جہاں آپ سے مال کی قربانی چاہتا ہے وہیں اس سے بڑی ایک اور چیز کی قربانی کا بھی طالب ہے یعنی آپ کے انا کی، جو بحیثیت انسان سخت اور مشکل ترین عمل ہے۔ ایسا کئی بار دیکھا گیا ہے کہ متقی، پرہیزگار، عالم اور دانشور کہلانے والے بھی اس امتحان میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ خاص کر اندھی تقلید کے حاملین میں انا کی بیماری کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ وہ مال کی قربانی تو دے دیں گے لیکن جب اُن سے انا کی قربانی مانگی جائے گی تواس سے بچنے کے لئے طرح طرح کی تاویلات پیش کریں گے اور جو اُن سے اس طرح کی قربانی مانگیں گے خود اُن پر بے تکے الزامات کا بوچھار کرکے اُنہیں خاموش کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان انا کی مریضوں پر اس مرض کی وجہ سے جو تکلیف گزرتی ہے وہ تو ہے ہی، جس کا احساس بھی انہیں کم ہی ہوتا ہے، لیکن معاشرے کی فضا میں ان کی وجہ سے آلودگی کی جو زہر پھیلتی ہے اس کے اثرات برسوں تک باقی رہ جاتے ہیں۔  

مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے معبودِ  حقیقی کے آگے نہ صرف اپنے مال کی قربانی پیش کر کے بلکہ اپنے انا کی قربانی بھی پیش کر کے، اس دنیا میں بھی حقیقی سکون حاصل کر لیتے ہیں اور آنے والی ابدی زندگی کے لئے بھی مسرتوں کے سامان مہیا کرالیتے ہیں۔ کاش یہ بات ہر خاص و عام کے سمجھ میں آجائے۔۔۔۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading