فیس بک کا ’مسلم مخالف پیغامات‘ ہٹانے سے انکار، بی جے پی سے رشتے خراب ہونے کا خدشہ! رپورٹ

واشنگٹن:ہندوستان میں فیس بک کے ایک اعلی عہدیدار کی جانب سے بی جے پی لیڈران کے مسلم مخالف نفرت آمیز پیغامات کو ہٹانے سے انکار کر دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق معاشی خسارے کے خوف سے فیس بک حکام نے بی جے پی لیڈران اور انتہاپسند ہندوؤں کے پیغامات سوشل میڈیا ویب سائٹس سے ہٹانے سے انکار کر دیا۔

ان لوگوں اور گروپوں کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کئے گئے مواد کو اندورنی طور پر پوری طرح تشدد کو فروغ دینے والا مانا گیا، اس کے باوجود ان کا دفاع کیا جاتا رہا۔ امریکی اخبار کا فیس بک ملازمین کے حوالے سے کہنا ہے کہ ہندوستان میں فیس بک کی پبلک پالیسی کی اعلیٰ عہدیدار انکھی داس نے حکمراں جماعت بی جے پی کے سیاستدان ٹی راجا سنگھ اور دیگر ہندو رہنماؤں کے مسلمان مخالف اشتعال انگیز پیغامات کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

انکھی داس کا خیال تھا کہ کہ بی جے پی سیاستدانوں کے خلاف کارروائی سے حکمراں جماعت سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور ہندوستان میں کمپنی کا کاروبار متاثر ہو گا۔ ٹی راجا تلنگانہ اسمبلی میں بی جے پی کے واحد رکن اسمبلی ہیں اور انہیں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے کے لئے جانا جاتا ہے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ پر ترجمان فیس بک کا کہنا ہے کہ ان افراد کے اکاؤنٹ بند کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے دوران فیس بک نے ان افراد کے متعدد نفرت انگیز پیغامات کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا ہے تاہم انڈین سیاستدان اور دیگر افراد کے اکاؤنٹس اب تک سوشل میڈیا ویب سائٹس پر موجود ہیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading