سعیدپٹیل جلگاؤں لمبے عرصے کےبعد مسلمانان ھیند کو ایک خوشگوار خبر ٣٠ ِجون ٢٠١٩ ِء بروز اتوار کو ملی تھی۔ یہ خبر بڑی تیزی سے سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی کہ صرف پانچ برس تک فلمی دنیا میں رہ کر اس مختصر عرصے میں کشمیری دختر زائرہ وسیم نے فلمی دنیا کو الوداع کہے دیا۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوۓ موصوفہ نے جو وجہ بیان کی ہےوہ کوئ دنیاوی یا عام زندگی کے تلخ تجربات یا مشاہدات نہیں ہے۔بلکہ فکر آخرت میں کۓجانےوالے نیکوکاروں کی طرح اللا رب العزت پر کامل یقین و جان وجسم میں ایمانی حرارت پیدا کرنےوالے ہیں۔کہ اس کا فلمی دنیا کادور شروع ہونے کےبعد سے مذہب اسلام سے وہ دور ہوتی جارہی تھیں اور اسے محسوس ہورہاتھا کہ وہ ایمان و یقین کی دولت کےخلاف ہے۔جو مذہب اسلام کےدائرےکار میں نہیں آتاہے۔اور میری پیدائیش اس کےلۓ نہیں ہیں۔"میں تو اپنے ایمان کےخلاف کام کررہی ہوں۔فلمی دنیا کی چکاچوند کردینےوالی گلیمر سے بھری دنیا ،شہرت اور دولت کی ریل۔چیل سب کچھ آسان لیکن یہاں کی تہذیب میں ہر مقام پر رہنے کےلۓ اپنے آپ کو مکمل سمجھنے کےباوجود ،ایسا محسوس ہوتاتھا کہ یہ مرےلۓ نہیں ہیں۔"میں مذہب اسلام اور ایمان کی عظیم دولت سے دور جارہیں ہوں "اور مذہب اسلام کےراستے پر چلنےکےلۓ اگر ایک مرتبہ کیا سو بار بھی ناکامی ملی تو کوئ بات نہیں ،اس طرح کا ایمانی و روحانی جذبے کا موصوفہ نے خوشگوار اعلان کرکے نہ صرف اپنا احتساب کیا بلکہ دین مبین کی ایک طرح سے دعوت دین کا کام کیا۔اس کی اسلام پسندی یقیناً نوجوانوں کےلۓ مشعل راہ ثابت ہوں گی۔آج مسلم نوجوان بیراہروی ،سستی شہرت ،وقت گذاری کےمشاغل میں مصروف ہیں۔انھیں زائرہ وسیم کی اسلام پسندی اور اس کی جانب دل و جاں سے لوٹنے کے عمل سے سبق حاصل کرنا چاھئے ۔کل تک وہ فلمی دنیا کو پسند کرنےوالے شائقین کےلۓ رول ماڈل تھیں۔لیکن اس کے اندرون نےاسے یہاں کی زندگی سے وہ خوشی حاصل نہیں ہوسکیں اور اب یہ دختراسلام اسلام پسندوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گئیں ۔اللا اس کے اس فیصلے کو امن و امان کا ذریعہ بناۓ ۔آمین۔