کسی زمانہ میں حجاز کا سفر بلکہ بذات خود ہر سفر بہت ہی مشکل کام ہوا کرتا تھا، جب سفر کے ذرائع و وسائل مشکل اور دشوار تھے، بحری جہاز سے سفر میں کافی وقت لگ جاتا تھا مگر لوگ بڑے اہتمام سے حجاز جایا کرتے تھے، عمرہ پر تو کم البتہ حج کے لیے بڑی تیاری سے سفر کیا کرتے تھے اور جب وہ واپس آتے تھے تو روداد سفر سننے کے لیے تمام رشتہ دار بلکہ پورا گاؤں اکٹھا ہوجایا کرتا تھا، بہت سے لوگ اپنے سفرنامے بھی لکھا کرتے تھے کہ ان کا سفر حجاز اور سفر حج کیسا رہا، اپنے قسم قسم کے مشاہدات اس میں بیان کیا کرتے تھے۔ یہ سفرنامے بہت قیمتی ہیں کیونکہ ان سے بہت سی تاریخی معلومات حاصل ہوتی ہیں، بلکہ سفرنامہ ادب اور لٹریچر کی ایک مستقل صنف بن گیا ہے۔
پہلے بڑی مشقتوں سے لوگ حج کے لیے ارادہ کرتے تھے لیکن صنعتی انقلاب اور ٹیکنالوجی کے نتیجہ میں اب سفر آسان ہوگیا ہے، سینکڑوں ایئر لائنس ہیں، ہر ایئر لائنس کے جہاز جدہ یا ریاض یا مدینہ مسافروں کو پہنچایا کرتے ہیں اور اب ہمارے ملک میں بہت سے انٹرنیشنل ایئر پورٹ بن گئے ہیں جن سے سفر کرنے والے سفر کیا کرتے ہیں چونکہ مالی و معاشی حالت بھی بہتر ہوگئی ہے، اس لیے لوگ فرض حج کے علاوہ نفلی حج بھی کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح نفلی عمرہ بھی کیا کرتے ہیں۔ دو ماہ قبل خود سعودی عرب نے جو رپورٹ شائع کی اس کے مطابق صرف رواں ایک سال میں پچاس لاکھ ہندوستانیوں نے عمرہ ادا کیا، اگر کم سے کم فی کس پچاس ہزار روپیہ کے حساب سے بھی جوڑا جائے تو یہ رقم کئی بلین میں شمار ہوتی ہے، اور یہ تو صرف ایک سال کا اندازہ ہے، اس سے مسلمانوں کی معاشی حالت کے بہتر ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، پھر یہ بات بھی کافی حد تک درست ہے کہ بہت سارے لوگ نفلی حج ادا کیا کرتے ہیں، ویسے تو بہت سے وہ افراد جو مدارس کے چندہ کے لیے بیرون ہند جاتے ہیں وہ بھی اُسی فنڈ سے عمرہ کر لیا کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ نفلی حج اور نفلی عمرہ کا ہے، کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تو ایک عبادت ہے، چاہے کتنی ہی بار کوئی عمرہ کرے، سال میں دو بار جائے یا تین بار جائے، اور اب تو چونکہ سعودی حکومت نے کافی آسانیاں پیدا کردی ہیں، دونوں حرم کے قریب سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل بنوا دیئے ہیں اور عمرہ ویزہ کو آسان کردیا ہے، اور اسے سعودیہ نے سیاحت سے جوڑ دیا ہے، یعنی عمرہ بھی ایک قسم کے ٹورزم میں داخل ہوگیا ہے، اس سے ہونے والی آمدنی کو بڑھانے کے لیے سعودی حکومت نے باقاعدہ نشانے مقرر کیے ہیں، یہ تو وہاں کی بات ہوئی۔ اب ذرا اپنے یہاں کی بات کرلیتے ہیں، اسی ہندوستان میں اس قدر غربت و افلاس ہے کہ مسلمان بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، وہ اسی وجہ سے تعلیم نہیں حاصل کر پاتے، اسکول چھوڑ کر کام میں لگنے کا رجحان بہت زیادہ ہے، اس بڑھتے ہوئے ڈراپ آؤٹ کے مسئلہ کو بہت ہی سنگینی کے ساتھ لوگوں نے محسوس کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک غریب گھر کو اپنا گزر بسر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت اور کام کرنے والے ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں بچوں کو بھی لگنا پڑتا ہے۔ اسی غربت و افلاس کی وجہ سے ہزاروں افراد علاج سے محروم رہ جاتے ہیں، ان کا علاج نہیں ہوپاتا۔ یہی حال غربت کی وجہ سے غریب بچیوں کی شادیوں کا بھی ہے، یہی حال یتیم بچیوں کی شادیوں کا بھی ہے جو یتیم خانوں میں پل بڑھ رہی ہیں، ہزاروں ہزار افراد ایسے ہیں جن کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں ہے اور ہزاروں ہزار افراد ایسے ہیں جو جیل خانوں میں بغیر ٹرائل کے بند ہیں، ہزاروں ہزار افراد ایسے ہیں جو ایک وقت کی روٹی کے لیے پریشان پھر رہے ہیں، اور ہزاروں ایسے افراد ہیں جو چھوٹے موٹے کاروبار کے لیے مالی مدد کے محتاج ہیں کہ کوئی ان کو سہارا دے تو وہ اپنی محنت سے روزی کما سکیں، لیکن ان سب ضرورتوں اور تقاضوں کے قائم رہتے ہوئے پریشان حال، محتاج، بیمار، غیر تعلیم یافتہ، شادی کے لیے تعاون کے خواہاں گروہوں کو چھوڑ کر اگر کوئی شخص اپنے افراد خاندان کے ساتھ نفلی عمرہ کیا کرتا ہے تو اس کے بارے میں اور ایسی صورت میں علامہ یوسف القرضاوی کا فتوی یہ ہے کہ بہتر یہ ہے اور یہی بات قابل ترجیح ہے کہ وہ نفلی عمرہ و حج کے بجائے اس پیسے کو مسلمانوں کے ان مصالح پر خرچ کرے جن میں خرچ کیا جانا زیادہ ضروری ہے، اس کا نفلی عمرہ کرنا کسی بھی حال میں درست نہیں ہے، اگر زیادہ ضرورتمند پریشان شہر، بستی، گاؤں، محلہ یا ملک میں موجود ہیں۔ اس بات کو انھوں نے ترجیحات کی فقہ میں تفصیل سے بیان کیا ہے وہ اس پر واضح رائے اور موقف رکھتے ہیں، اور ان کا یہ فتوی کافی سالوں پرانا ہے جو انہوں نے نفلی حج و عمرہ کے بارے میں دیا ہے۔
اب حال میں لیبیا کے بزرگ سابق مفتی صادق غریانی نے بھی یہی فتوی دیا ہے جو ایک بار عمرہ یا حج کرلینے کے بعد مزید حج اور عمرہ کرنا اس پہلو سے کہ زیادہ ضرورت مند موجود ہیں، زیادہ محتاج موجود ہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ اس پیسے کا استعمال سعودی حکومت غلط جگہوں پر کر رہی ہے، ان کے خیال میں ایسے نفلی عمرہ اور حج کا پیسہ سیدھے سیدھے یمن، لیبیا اور دوسرے ملکوں میں سعودی عرب اور امارات کی فوجی مداخلت سے متعلق ہے اور یہ کہ وہ سارے پیسے یورپ، امریکہ اور اسرائیل کو جاتے ہیں۔ ان کے اس فتوی پر جو ہنگامہ ہوا وہ تو اپنی جگہ، ان کے گھر پر امارات نے حملہ بھی کیا، لیکن بہرحال وہ فتوی مشہور ہوا اور ہندوستان میں بھی بعض علماء نے اس پر بغیر سمجھے بوجھے رد عمل ظاہر کیا۔ یہ کہنا کہ وہ فتوی سیاسی ہے، ہو سکتا ہے یہ بات درست ہو، لیکن اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ امارات اور سعودی کا رول لیبیا، یمن اور دوسرے ملکوں میں ہے جو فوجی اور عسکری نوعیت کا بھی ہے، اور پیسوں کے غلط استعمال کا بھی۔ سعودیہ کے پاس پیسے صرف تیل سے نہیں آتے بلکہ عمرہ و حج سے بھی آتے ہیں اور یہ بڑی آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔
خیر بنیادی طور پر یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ جو وقت کی ضرورت ہو اس کا لحاظ رکھنا چاہیے، اگر ہمارے پاس پیسہ ہے تو ہمیں خود اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہمارے لیے نفلی عمرہ و حج کرنا زیادہ اہم ہے یا گاؤں، بستی، محلے یا خاندان کی وہ بچیاں جن کی شادیاں نہیں ہوئیں ان کی شادی کے لیے یہ پیسے صرف کرنا اہم ہے، کیونکہ یہ ایک بڑی ضرورت ہے، وہ لوگ جو پیسوں کی وجہ سے علاج سے محروم ہیں ان کی مدد کی جائے کہ ان کا صحیح طور پر علاج ہوسکے، وہ مسلمان جو جیل خانوں میں بند ہیں ان کو آزاد کرانے کے لیے یہ پیسے خرچ کیے جائیں، وہ افراد جو غربت کی وجہ سے ٹوٹے ہوئے گھروں میں رہ رہے ہیں اور اپنے گھر بنوانے سے قاصر ہیں، یا وہ جن کے پاس گھر ہی نہیں ہیں ان کے گھر بنوائیں جائیں، وہ بچے، لڑکے، لڑکیاں جو پیسوں کی وجہ سے ایجوکیشن نہیں حاصل کر پا رہے ہیں، ان کی تعلیم پر یہ پیسے خرچ کیے جائیں، یہ ایک تعمیری سوچ ہے، اس سوچ کو عام کرنے کی ضرورت ہے اور جب تک یہ سوچ عام نہیں ہوگی نفلی عمرہ اور حج کرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جائے گی۔
اہل علم اور مسلم تنظیموں کو چاہیے کہ وہ علامہ قرضاوی کے فتوے کو عام کریں اور اصحاب افتاء کو چاہیے کہ وہ بھی ملت کے اس اہم مسئلہ کے سلسلہ میں اپنا شرعی موقف بیان کرے تاکہ اہل فکر آگاہ ہوسکیں کہ ہندوستانی علماء بھی واقعی رہنمائی کیا کرتے ہیں۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
