سعید پٹیل جلگاؤں
دنیا اس دور میں ناکردہ گناہوں کی سزا کے فتنوں سے گذررہی ہیں۔ایک عام انسان الجھن کی کفیت میں مبتلا ہے۔؟اسی طرح آج فتنوں کی بھرمار ہیں۔ایک عام انسان دوسرے انسان کے شرسے محفوظ نہیں ہے۔؟اس کے اپنے بھی وہی زبان بول رہےہیں جو ان کے دشمنان کو درکار ہے۔ویسے تو یہ صورتحال آج سے نہیں ہے۔لیکن جب عرب دنیا کے سینے پر یہودی ریاست کا قیام عمل میں آیاہے تب سے ہر دو پانچ برسوں کے وقفے سے یہ کھیل کھیلا جارہاہےاور گذشتہ تین دہائیوں سے یہ عمل تیز سے تیز تر ہوچکا ہے۔ہاتھی والوں نے کہرام مچا رکھا ہے۔دنیا بھر کے عام مسلمانوں کو پھر ایک مرتبہ ابابل کی طرح چمتکار ہونے کا انتظار ہے۔قیادت کی شکایت ہم نہیں کریں گے کیونکہ یہ ہر ہر سطح پر انتشار اور اختلاف کاشکار ہیں۔
دنیاپرستی ،عہدہ پرستی اور مفادپرستی سے ان کی دنیا آباد ہے۔یہ حضرات ہمیشہ اپنے مفادات کا دفاع کرتے آۓ ہیں۔دنیا کے کئ انسانی تحفظ کےنام پر کام کرتے ہیں لیکن ان کی سنتا کون ہے۔؟یہ ادارے سواۓ اجلاس منعقد کرنے اور بیان جاری کرکے مطالبات کرنے کے کچھ نہیں کرتے ہیں۔؟ دوسری دنیا کے ظالم و جابروں کے ظلم ستم سے انسانوں کی جان مال کے تحفظ کےلۓ ان اداروں نے کیاکیاـ؟ یہ دجالی فتنوں کے سلسلےنے انسانیت کے پیار محبت ، اخلاصی قدروں کوپامال کردیا ہے۔انسانی معاشرے کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔فتنوں کی یہ ہوائیں انسانوں کے روشن چراغوں کو بجھانے کی فکر میں ہے۔اس تہذیبی تصادم کو عام انسانوں کی جان مال کی کوئ فکر نہیں ہیں۔؟یہ تواپنی دنیا سنوارنے اور اسے خوب سے خوب تر بناکر آباد کرنے کی فکرمیں ہے۔کارپوریٹ کی چکاچوند دنیا جس کی بنیاد فحاشی اور آزادئ نسوا کی آڑمیں تہذیب کی دھجیاں اڑائ جارہی ہیں۔اسے زندگی کی شان اور شوکت سمجھاجارہاہے۔
نوجوان نسل کےسامنے مختلف سائیٹوں پر موبائل کے ذریعے وہ سب کچھ پروسا جارہاہےجس میں نئ نسل پر منفی اثرات مرتب ہورہےہیں۔آج کے حالات میں پوری دنیا میں جو کچھ بھی فیصلے لۓ جارہے ہیں وہ عوامی راۓ یا اتفاق راۓکے نہیں ہوتےہیں۔؟بلکہ عوام پر تھوپیں جارہے ہیں۔اس لۓکے ان فیصلوں سے انسانیت پریشان ہے۔؟آج سب سےبڑامسلہ پوری انسانیت کو روداری ،بھائ چارگی سے مالامال کرناہے۔لیکن چند شر پسند عناصروں نے انسانوں کی زندگی سے جینے کاحق چھین لیا ہے۔؟یہ لوگ فتنوں کی ہواؤں سے روشن چراغ بجھانے کی کوشش میں ہے۔؟