کابل: طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی غیر قانونی صدر ہیں اور یہاں کے انتخابی نتائج امن مذاکرات میں خلل پیدا کریں گے۔
منگل کو افغانستان کے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا تھے جس میں اشرف غنی کو 50.64 فیصد ووٹ حاصل ہوئے اور وہ دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔ افغانستان میں گزشتہ سال ستمبر میں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ کرائی گئی تھی لیکن نتائج کا اعلان کئی مرتبہ موخر کیا گیا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا ’’ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ غنی غیر قانونی صدر ہیں اور اس جھوٹے انتخابات کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ انتخابی نتائج افغانستان کے امن مذاکرات میں رکاوٹ پیدا کریں گے۔ طالبان غنی کو افغانستان کے صدر کی حیثیت سے قبول نہیں کرتا ہے‘‘۔
قابل غور ہے کہ 2018 سے امریکہ اور طالبان امن معاہدے پر بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کی واپسی کو یقینی بنائے گا۔ اس سے پہلے اس سال فروری کے آغاز میں امریکہ اور طالبان نے ایک ہفتے کے لئے تشدد نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو