اسرائیلی میڈیا نے آج پیر کو بتایا ہے کہ فوج نے کابینہ کی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں غزہ شہر کے گھیراؤ اور قبضے کے لیے اپنی تفصیلی منصوبہ بندی پیش کی۔ فوج کے مطابق یہ کارروائی دو ہفتوں کے اندر شروع ہو گی۔میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اگلے دو دنوں میں 60 ہزار اضافی فوجیوں کو طلب کرنے کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران زیادہ تر وزراء نے غزہ سے متعلق کسی جزوی معاہدے کو مسترد کر دیا، جبکہ فوجی سربراہ ایال زامیر اور سیکیورٹی اداروں کے سربراہان نے جزوی معاہدے کی حمایت کی۔ تاہم وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس معاملے پر ووٹنگ نہیں کروائی کیونکہ یہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کی ایک خفیہ داخلی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں غزہ میں ہونے والے فوجی آپریشن "عربات جدعون” کی ناکامی تسلیم کی گئی ہے۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ فوج نے جنگ میں "ہر ممکن غلطی” کی اور کارروائیوں میں واضح طور پر حکمتِ عملی کا فقدان رہا۔ اس کے نتیجے میں فوج اور سازوسامان کی مسلسل کھپت ہوئی، مگر نہ تو کوئی عسکری برتری ملی اور نہ کوئی سیاسی نتیجہ برآمد ہوا۔
دوسری طرف غزہ کے طبی ذرائع نے بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 100 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں 38 وہ لوگ بھی شامل ہیں جو امداد کے منتظر تھے۔ اسرائیلی حملے زیادہ تر غزہ کی پٹی کے شمال حصوں، غزہ شہر کے شمالی علاقے، خانیونس کے جنوب اور موراگ کے امدادی مرکز کے قریب کیے گئے۔