عیدالاضحی پر کشمیر میں نرمی کا فیصلہ

dodal.jpg

سری نگر:دفعہ -370 ہٹانے سے پہلےہی جموں وکشمیر میں امن وامان بنائے رکھنے کےلئے حکومت نے کئی طرح کی پابندیاں لگا دی ہیں، جواب بھی نافذ ہیں۔ اب حکومت کشمیروادی کے لوگوں کوعیدالاضحیٰ منانے کےلئے پابندیوں میں نرمی برتنے پرغورکررہی ہے۔ ذرائع نے نیوز18 کوبتایا کہ مقامی انتظامیہ نے پابندیاں ہٹانےکولےکرتیاریاں شروع کردی ہیں۔ ایک سرکاری افسرنےکہا کہ مقامی انتظامیہ کافی حساس ہے، لیکن لوگوں کےلئےعید کی اہمیت کودھیان میں رکھتے ہوئے منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

افسرنےکہا کہ کوئی بھی قدم اٹھاتے وقت لوگوں کی سیکورٹی اورعید کے تیوہارکو دھیان میں رکھا جائے گا۔ پورے ملک میں 12 اگست کوعیدالاضحیٰ منائی جائے گی۔ اعلیٰ ذرائع کے مطابق، قومی سلامتی مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال (اجیت ڈوبھال) ہرگھنٹے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اتوارکوپابندیاں لگانے کے بعد سےاب تک کشمیر وادی کے کچھ علاقوں میں معمولی حادثے ہوئے ہیں۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے پیرکوراجیہ سبھا میں دفعہ -370 کوہٹانے کے لئے ایک قرارداد پیش کیا۔ ساتھ ہی جموں وکشمیرکو مرکزکے زیرانتظام دو خطوں میں تقسیم کرنےکےلئےایک بل بھی پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں لمبی بحث کے بعد دفعہ -370 کوہٹا کرریاست کی تشکیل نوکو منظوری دے دی گئی۔ اس کےاگلے دن منگل کولوک سبھا میں بھی اسے منظوری دیتے ہوئے صوبے کی تشکیل نو پرمہرلگا دی گئی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading