عجیب و غریب: بہار میں امن برقرار رکھنے کے لئے حراست میں ’ہنومان‘

پولس انسانوں کو اکثر حراست میں لیتی ہے لیکن ایک ایسا عجیب و غریب واقعہ پیش آیا کہ امن برقرار رکھنے کے لئے پولس کو ہندو دیوتا ’ہنومان‘ کو بھی تحویل میں لینا پڑ گیا۔ پولس نے دو مختلف فریقوں کی جانب سے اس معاملے میں دو الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔ یہ واقعہ بہار کے ویشالی ضلع میں پیش آیا۔

ایک پولس عہدیدار نے ہفتہ کے روز کہا ، ’’کچھ لوگوں (تیسرے فریق) نے پاناپور گوراہی گاؤں کے بلوا کوری ٹھاکرباڑی میں متنازعہ اراضی پر ہنومان کا مجسمہ نصب کرنے کی کوشش کی۔ اس پر ٹھاکرباڑی کمیٹی کے ارکان مشتعل ہو گئے۔ جمعرات کو اس کے حوالہ سے مخالفت اس وقت بڑھ گئی جب کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور مجسمہ کو وہاں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔‘‘

اس کے بعد دونوں فریقوں کے مابین تصادم کی صورت حال پیدا ہو گئی۔ اطلاع ملنے پر صدر پولس موقع پر پہنچ گئی اور ہنومان کی مورتی کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔

حاجی پور کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس راگھو دیال نے بتایا کہ دونوں طرف سے تحریری درخواست کے بعد صدر پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’عوامی زمین پر کسی مندر یا مجسمہ کی تنصیب ممنوع ہے۔ بھگوان ہنومان کے مجسمہ کو قبضہ میں لے لیا گیا ہے اور اسے تھانے میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ پولس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔‘‘

ڈی ایس پی راگھو دیال نے کہا کہ تنازعہ کو ختم کرنے اور امن برقرار رکھنے کے مقصد سے پولس نے ہنومان کے مجسمہ کو گاؤں سے ہٹا کر قبضے میں لیا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading