
یاسر ندیم الواجدی
طلاق ثلاثہ بل اگرچہ لوک سبھا میں پاس ہوچکا ہے، لیکن راجیہ سبھا میں آکر اٹک گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں حکمران جماعت کے پاس 89 ممبران ہیں، جن میں نتیش کمار کی پارٹی کے چھ ممبران بھی شامل ہیں اور یہ پارٹی اس بل پر اپنے تحفظات رکھتی ہے۔ اپوزیشن کے ٹوٹل 155 ممبران ہیں، جن کا مطالبہ ہے کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ امید ہے کہ یہ بل راجیہ سبھا میں پاس نہیں ہوسکے گا بشرطیکہ اپوزیشن اپنے اتحاد کو باقی رکھے اور مسلم پرسنل لا بورڈ اپنی لابنگ کو۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مسلم تنظیم نے ابھی تک کامیاب لابنگ کی ہے، ورنہ عام طور پر جلسے جلوسوں پر ہی بات ختم ہوجایا کرتی تھی۔ شاہ بانو کیس میں بھی لابنگ ہوئی تھی لیکن اس وقت اپوزیشن مضبوط نہیں تھی اور حکمراں جماعت بی جے پی نہیں تھی۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت گزشتہ کئی ماہ سے مختلف اپوزیشن لیڈران سے مسلسل ملتی رہی ہے۔ ان کی اس ملاقات نے جہاں اپوزیشن کو یہ احساس دلایا ہے کہ مجوزہ بل دراصل مسلمان مرد وعورت پر ظلم کی راہ ہموار کرے گا وہیں یہ بھی باور کرایا ہے کہ اس بل کا قانون بن جانا آنے والے لوک سبھا الیکشن کی کمپین کے دوران مودی کی ایک اہم ترین کامیابی کے طور پر شمار کیا جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ الیکشن ترقی کے بجائے ہندو مسلم منافرت پر لڑا جارہا ہو، یہ بل حکومت کے پاس بہت اہم ایشو ہوگا۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت یقینا مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان کامیاب لابنگ کی ہے، جس کے اثرات واضح طور پر نظر آرہے ہیں، لیکن۔۔۔ کھیل ابھی باقی ہے۔