طارق انور این سی پی سے مستعفی، پوار کی مودی کو کلین چیٹ دینے سے ناراض

کیٹھر / نئی دہلی:

این سی پی قومی جنرل سیکرٹری طارق انورنے جمعہ کے روز کہا کہ پارٹی کے سربراہ شرد پوار کی جانب سے وزیر دفاع کے "دفاع” کرنے پر انہوں نے پارٹی اور پارلیمانی رکنیت سے استعفے پیش کردیا.

رافیل ڈیل کو لے کر آج انھوں نے اپنے انتخابی حلقہ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کی تمام ذمہ داریوں سے استعفی دے رہے ہیں، واضح رہے کہ وہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے بانی رکن تھے.

انور نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک مراٹھی چینل کے پوار کے انٹرویو سے انھیں دکھ ہوا جس میں قومی صدر پوار نے رفایل لڑاکا جیٹ طیارے کے معاہدے پر وزیراعظم نریندر مودی کا ارادہ غلط نہیں تھا ایسا کہا تھا . ۔

واضح رہے شرد پوار نے ایک دن پہلے رافیل مدے پر وزیر اعظم مودی کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا ۔ شرد پوار کے اس بیان کا بی جے پی کے صدر امت شاہ نے استقبال بھی کیا تھا۔ شرد پوار کا یہ بیان اس وقت آیا تھا جب حزب اختلاف کی جانب سے عظیم اتحاد بنانے کی بات ہو رہی تھی ۔واضح رہے اس سے پہلے شرد پوار مستقل مودی حکومت کی تنقید کرتے رہے ہیں۔

طارق انور کٹیہار سے رکن پارلیمنٹ ہیں اور سال 1999 سے جب سے این سی پی کا قیام عمل میں آیا تھا تب سے وہ این سی پی کے رکن رہے ہیں اور وہ اس پارٹی کے تاسیسی ارکان میں سے ایک ہیں ۔ شرد پوار، طارق انور اور پی اے سنگمانے سونیا گاندھی کے بیرون ملک کا مدا اٹھایا تھا اور اس مدے پر پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔ ذرائع کی بات مانی جائے تو وہ اب دوبارہ کانگریس میں جا سکتے ہیں ۔
واضح رہے طارق انور این سی پی کے دوسرے بڑے رہنما پرفل پٹیل کے کئ فیصلوں سے ناخوش رہے ہیں اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پرفل پٹیل کی بی جے پی سے زیادہ نزدیکیاں ہیں ۔ طارق انور کے اس فیصلہ سے ان کو سیاسی طور پر فائدہ ہوگا اور اس سے کہیں نہ کہیں حزب اختلاف بھی مضبوط ہوگا۔فی الحال طارق انور بہار میں ہیں اور وہ کل دہلی آئیں گے۔طارق انور نے اس سے قبل ستمبر کو رافیل مدے پر حکومت کے خلاف ٹویٹ بھی کیا تھا.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading