لکھنؤ: شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میں ہوئے احتجاج کے درمیان گرفتار سابق آئی پی ایس افسر و سماج کارکن ایس آر دارا پوری و کانگریس لیڈر صدف جعفر کو منگل کو لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کردیا گیا۔ صدف جعفر اور ایس آر داراپوری کے علاوہ 12 دیگر افراد کو بھی جیل سے رہائی مل گئی ہے۔
گذشتہ سنیچر کو لکھنؤ کی ایک عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 50۔50 روپئے نجی مچلکے پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیاتھا۔ اہل خانہ کے بقول سنیچر کو ہی ضمانت کی عرضی منظور ہونے کے بعد اتوار کی چھٹی اور پیر کو عدالتی کاروائی کی تکمیل میں گذر گیا جس کی وجہ سے ان کی رہائی میں تأخیر ہوئی اور انکی رہائی آج ممکن ہوپائی۔

جیل سے رہائی ملنے کے بعد کانگریس لیڈر صدف جعفر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’جیل جانے اور پٹائی کا خوف اب ختم ہو گیا ہے۔ میں یوگی جی کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ جب تک یہ غیر انسانی قانون واپس نہیں لیا جاتا، اس وقت تک میں مظاہرہ جاری رکھوں گی۔‘‘
Sadaf Zafar,social activist&Congress leader who was arrested during protest against Citizenship Amendment Act,in Lucknow:The fear of being jailed&beaten up has now gone away, thanks to Yogi Ji. I will continue to protest strongly till the time this inhuman law is not withdrawn. pic.twitter.com/mOfpZD1nEA
— ANI UP (@ANINewsUP) January 7, 2020
اڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ایس ایس پانڈے نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جمعہ کو اس پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور سنیچر کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جیل میں قید ان افراد کو راحت دے دی تھی۔ گذشتہ 19 دسمبر کو ریاستی راجدھانی لکھنؤ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج میں اچانک تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں شرپسند عناصر نے پتھر بازی کے ساتھ ساتھ متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔

مظاہرین اور سیکورٹی اہلکار کے ساتھ جھڑپ کے پاداش میں پولیس نے 200 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ جن میں کانگریس کارکن صدف جعفر بھی شامل تھیں۔صدف جعفر کو احتجاج کے دوران پریورتن چوک سے پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ فیس بک لائیو ویڈیو بنارہی تھیں جس میں وہ تشدد پر آماد افراد کے خلاف کچھ کاروائی نہ کرنے پر پولیس کی تنقید کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔
صدف جعفر کی رہائی کے لئے معروف شخصیات بشمول سوارا بھاسکر، میرا نائر اور مہیش بھٹ نے شوسل میڈیا پر ان کی گرفتار کے خلا ف اپنی آواز بلند کی تھی۔ اس قبل 23 دسمبر کو یہ کہتے ہوئے جعفر کی ضمانت کی عرضی خارج کردی تھی کہ جن دفعات کے تحت صدف پر مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ کافی سنگین ہیں اور ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
