شہری مزدوروں کے احترام، تحفظ اور انصاف کے لیے یوتھ کانگریس کی جدوجہد
ممبئی یوتھ کانگریس کی جانب سے ’’شہری مزدور انصاف مہم‘‘ اور ’’ممبئی کا حق‘‘ مہم کا اعلان
ممبئی: ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی کو کھڑا کرنے والے لاکھوں شہری مزدور آج بھی غیر محفوظ، غیر منظم اور استحصالی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صفائی ملازمین، گھریلو مزدور، آٹو رکشا ڈرائیور، فٹ پاتھ فروش اور غیر منظم شعبے سے وابستہ کارکنان کو حکومت بنیادی حقوق، سماجی تحفظ اور باعزت زندگی سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ یہ سنگین الزام ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین نے عائد کیا۔
ممبئی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زینت شبرین، یوتھ کانگریس کے انچارج پونیت سنگھ پریا اور دیگر عہدیداران نے ’’شہری مزدور انصاف مہم‘‘ کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی ’’ممبئی کا حق‘‘ مہم کے تحت ممبئی کی بدعنوان اور غیر فعال انتظامیہ کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاجی تحریک چلانے کی وارننگ بھی دی گئی۔
زینت شبرین نے کہا کہ شہر کو تعمیر کرنے والے مزدوروں کو آج بھی کم از کم اجرت، سماجی تحفظ، طبی سہولیات، قانونی تحفظ اور عزت و احترام حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے لیبر قوانین میں گھریلو مزدوروں، گگ ورکرس اور غیر منظم شعبے کے کئی طبقات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانونی پابندی کے باوجود آج بھی سیور اور سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران صفائی ملازمین کی اموات ہو رہی ہیں۔ انہیں حفاظتی سازوسامان تک فراہم نہیں کیا جاتا اور ہلاک ہونے والے ملازمین کے اہل خانہ کو نہ انصاف ملتا ہے اور نہ ہی معاوضہ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مینول اسکینجنگ کو مکمل طور پر بند کیا جائے اور تمام صفائی ملازمین کو مستقل سرکاری ملازمت، ہیلتھ انشورنس اور سماجی تحفظ فراہم کیا جائے۔
گھریلو مزدوروں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے زینت شبرین نے کہا کہ آج بھی کئی خواتین گھریلو ملازمین کو الگ لفٹ، الگ گیٹ اور الگ بیت الخلا جیسی جدید چھواچھوت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہیں کم از کم اجرت، ہفتہ وار تعطیل، زچگی فوائد اور قانونی تحفظ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ یوتھ کانگریس نے گھریلو مزدوروں کے لیے الگ قانون، فی گھنٹہ 100 روپے کم از کم اجرت، ہیلتھ انشورنس، پنشن اور امتیازی سلوک کے خلاف سخت قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آٹو اور رکشا ڈرائیور ایپ کمپنیوں کی لوٹ، پولیس کی ہراسانی، بڑھتے ہوئے چالان اور مجاز اسٹینڈس کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان کے لیے الگ ویلفیئر بورڈ، انشورنس، پنشن، گیس سبسڈی اور ایپ کمیشن پر کنٹرول کی مانگ بھی کی گئی۔
فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والوں کے خلاف انتظامیہ کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے زینت شبرین نے کہا کہ خوبصورتی کے نام پر غریبوں کا روزگار چھینا جا رہا ہے۔ ضبطی، غیر قانونی وصولی اور پولیس ہراسانی کے باعث لاکھوں فٹ پاتھ فروش غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسٹریٹ وینڈرس ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد، وینڈنگ زون، کاروباری سرٹیفکیٹ اور خواتین فروشوں کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں کروڑ روپے کے بجٹ کے باوجود ممبئی کے شہریوں کو گڈھوں سے پاک سڑکیں، سیلاب سے محفوظ شہر، صاف ہوا، بہتر عوامی ٹرانسپورٹ اور معیاری طبی سہولیات حاصل نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ٹرپل انجن سرکار‘‘ کے دور میں ممبئی میں رہنا، کام کرنا اور سانس لینا تک دشوار ہو گیا ہے۔
زینت شبرین نے الزام لگایا کہ سیلاب کنٹرول، نالوں کی صفائی، ڈرینج اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے۔ سڑکوں پر جاری تعمیراتی کام، بڑے پروجیکٹس اور گردوغبار کی آلودگی ممبئی والوں کی صحت پر سنگین اثر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے لوکل ٹرین، بیسٹ بس سروس اور میونسپل کارپوریشن کے اسپتالوں کی خستہ حالی پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم صرف احتجاج نہیں بلکہ شہر تعمیر کرنے والے مزدوروں کے احترام، مساوات اور آئینی حقوق کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی والوں کے باعزت زندگی گزارنے کے حق کو خطرہ لاحق ہے اور یوتھ کانگریس شہریوں کی آواز بن کر سڑکوں پر اترے گی۔ اس موقع پر زینت شبرین اور پونیت سنگھ پریا نے شہری مزدوروں اور ممبئی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 9811867474 نمبر پر مسڈ کال دے کر بڑی تعداد میں اس مہم سے جڑیں۔