عدالت نے دہلی پولس کو لگائی پھٹکار، عوام کہیں بھی کر سکتے ہیں پرامن مظاہرہ
دریا گنج تشدد معاملے میں دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے آج پولس کو زبردست پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’لوگ کہیں بھی پرامن مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ جامع مسجد پاکستان میں نہیں ہے۔ اگر لوگ چاہیں تو پرامن مظاہرہ پاکستان میں بھی کر سکتے ہیں۔‘‘
Daryaganj violence case: Court slams Delhi Police, says, people can carry out peaceful protests anywhere. Jama Masjid is not in Pakistan where we are not allowed to protest. Peaceful protests take place in Pakistan as well.
— ANI (@ANI) January 14, 2020
شاہین باغ مظاہرہ پر دہلی ہائی کورٹ نے کہا ’پولس عوامی مفاد میں کام کرے‘
شاہین باغ میں خواتین کے ذریعہ گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف جاری پرامن احتجاجی مظاہرہ سے جڑے ایک کیس کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ پولس محکمہ عوامی مفاد کو دیکھتے ہوئے کارروائی کرے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور نظامِ قانون برقرار رکھنے کے لیے پولس مناسب کارروائی کرے۔ واضح رہے کہ کالندی کنج-سریتا وہار روڈ گزشتہ 15 دسمبر سے بند ہے اور گاڑیاں اس سڑک پر بالکل بھی نہیں چل رہی ہے۔
Delhi HC asks concerned authority to look into the matter in larger public interest&deal with issue of maintaining law &order,on petition seeking to withdraw closure of Delhi's Kalindi Kunj-Shaheen Bagh stretch which was closed on Dec 15, 2019 for ongoing protests against #CAA pic.twitter.com/A2hHS0MFoH
— ANI (@ANI) January 14, 2020
شہریت قانون کے خلاف کیرالہ حکومت سپریم کورٹ پہنچی، کہا ’یہ قانون آئینی اصولوں کے خلاف‘
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کیرالہ حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ اس نے عدالت عظمیٰ میں ایک عرضی داخل کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ہندوستانی آئین کی شق 14، 21 اور 25 کے ساتھ ساتھ سیکولرزم کے حقیقی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
Kerala government moves Supreme Court against #CitizenshipAmendmentAct pic.twitter.com/MbTz3HsjBk
— ANI (@ANI) January 14, 2020
تمل ناڈو: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف نکالی گئی زبردست ریلی
پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مودی حکومت کے ذریعہ شہریت ترمیمی قانون کا نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے بعد یہ سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔ تمل ناڈو میں پیر کے روز بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ خواتین نے بھی اس قانون کے خلاف ہندوستانی پرچم کے ساتھ ریلی نکالی جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں۔
Tamil Nadu: People staged protest against Citizenship Amendment Act, National Register of Citizens and National Population Register in Coimbatore, yesterday. pic.twitter.com/lp07VIPm06
— ANI (@ANI) January 14, 2020
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو