شہریت قانون LIVE: عدالت نے پولس کو لگائی پھٹکار، عوام کہیں بھی کر سکتے ہیں پرامن مظاہرہ


عدالت نے دہلی پولس کو لگائی پھٹکار، عوام کہیں بھی کر سکتے ہیں پرامن مظاہرہ

دریا گنج تشدد معاملے میں دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے آج پولس کو زبردست پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’لوگ کہیں بھی پرامن مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ جامع مسجد پاکستان میں نہیں ہے۔ اگر لوگ چاہیں تو پرامن مظاہرہ پاکستان میں بھی کر سکتے ہیں۔‘‘


شاہین باغ مظاہرہ پر دہلی ہائی کورٹ نے کہا ’پولس عوامی مفاد میں کام کرے‘

شاہین باغ میں خواتین کے ذریعہ گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف جاری پرامن احتجاجی مظاہرہ سے جڑے ایک کیس کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ پولس محکمہ عوامی مفاد کو دیکھتے ہوئے کارروائی کرے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور نظامِ قانون برقرار رکھنے کے لیے پولس مناسب کارروائی کرے۔ واضح رہے کہ کالندی کنج-سریتا وہار روڈ گزشتہ 15 دسمبر سے بند ہے اور گاڑیاں اس سڑک پر بالکل بھی نہیں چل رہی ہے۔


شہریت قانون کے خلاف کیرالہ حکومت سپریم کورٹ پہنچی، کہا ’یہ قانون آئینی اصولوں کے خلاف‘

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف کیرالہ حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ اس نے عدالت عظمیٰ میں ایک عرضی داخل کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ہندوستانی آئین کی شق 14، 21 اور 25 کے ساتھ ساتھ سیکولرزم کے حقیقی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔


تمل ناڈو: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف نکالی گئی زبردست ریلی

پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مودی حکومت کے ذریعہ شہریت ترمیمی قانون کا نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے بعد یہ سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔ تمل ناڈو میں پیر کے روز بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ خواتین نے بھی اس قانون کے خلاف ہندوستانی پرچم کے ساتھ ریلی نکالی جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading