شہریت قانون LIVE : امت شاہ کا چیلنج اکھلیش یادو نے کیا قبول


اکھلیش یادو نے شہریت قانون پر ڈیبیٹ کرنے کے امت شاہ کے چیلنج کو کیا قبول

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے شہریت (ترمیمی) قانون اور این آر سی پر امت شاہ کے ڈیبیٹ کرنے کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ضمن میں بی جے پی لیڈروں سے بحث کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں کہا کہ اس معاملے پر تقریباً پورا ملک سراپا احتجاج ہے۔ سابق وزیراعلی نے مزید کہا کہ ’’میں بی جے پی لیڈروں سے سی اے اے اور این آر سی پر بحث کرنے کو تیار ہوں لیکن بی جے پی کو اقتصادی سست روی، بے روزگاری، غربت اور حکومت کی ہراسانی کے بموجب مرنے والے افراد کے مسائل پر بھی ڈبیٹ کرنا چاہئے‘‘۔

چھوٹے لوہیا کے نام سے مشہورجنیشور مشرا کی برسی کے موقع پر منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت دستور ہند سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ ملک کا ہر شہری سی اے اے کے خلاف احتجاج کررہا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب مذہب کی بنیاد پر کوئی قانون بنایا گیا ہے۔

مرکزی حکومت سے جواب ملنے کے بعد اب پانچویں ہفتہ میں ہوگی سماعت: سپریم کورٹ

شہریت ترمیمی قانون پر اب چار ہفتے بعد یعنی پانچویں ہفتہ میں سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کا کہنا ہے کہ وہ نئی عرضیوں کے داخل ہونے پر روک نہیں لگا سکتے ہیں لیکن ہر کیس کے لیے اک وکیل کو ہی موقع ملے گا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو دیے گئے نوٹس کا جواب ملنے کے بعد اب پانچویں ہفتہ میں سماعت ہوگی۔ دوسری طف آسام سے جڑی عرضیوں پر مرکزی حکومت کو دو ہفتے میں جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔


شہریت قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیاں الگ الگ کیٹگری میں تقسیم

سپریم کورٹ نے شہریت قانون کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو کچھ الگ الگ کیٹگری یعنی زمرے میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کے تحت آسام، نارتھ ایسٹ کے مسئلے پر الگ سے سماعت ہوگی۔ علاوہ ازیں اتر پردیش میں جو شہریت قانون کا عمل شروع کیا گیا ہے، اس پر علیحدہ سماعت ہوگی۔ عدالت نے سبھی عرضیوں کو لسٹ زون کے حساب سے تقسیم کر کے مانگا ہے اور ان پر مرکز کی مودی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے مودی حکومت کے خلاف جاری کیا نوٹس، جواب کے لیے 4 ہفتے کا وقت

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف داخل عرضیوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکز کی مودی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے مودی حکومت سے کہا ہے کہ وہ چار ہفتے میں اپنا جواب داخل کرے۔


ابھی کوئی حکم جاری کرنا ممکن نہیں، کئی عرضیوں پر سماعت باقی: سپریم کورٹ

شہریت قانون کے خلاف داخل عرضیوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے کہا کہ ”ہم ابھی کوئی بھی حکم جاری نہیں کر سکتے کیونکہ ابھی کئی عرضیوں کو سننا باقی ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ سبھی عرضیوں کو سننا لازمی ہے اس لیے فی الحال کوئی حکم صادر نہیں کیا جا سکتا۔ اس درمیان اٹارنی جنرل نے اپیل کی ہے کہ عدالت کو یہ حکم جاری کرنا چاہیے کہ اب کوئی نئی عرضی داخل نہیں ہونی چاہیے۔


سپریم کورٹ میں سماعت شروع، کپل سبل نے کیس آئینی بنچ کو بھیجنے کا کیا مطالبہ

شہریت قانون کے خلاف اور اس کے حق میں کم و بیش 150 عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں جن میں سے کچھ عرضیوں کی کاپیاں ہی اس وقت عدالت پہنچی ہیں۔ اس درمیان شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اپنی بات رکھتے ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کو آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا جانا چاہیے۔


140 سے زائد عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت تھوڑی ہی دیر میں

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اور اس کے حق میں کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہیں۔ انڈین یونین مسلم لیگ اور کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے بھی شہریت ترمیمی قانون کو اپنی عرضی میں چیلنج کیا ہے۔ ان عرضیوں پر چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے، جسٹس ایس عبدالنظیر اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ کچھ ہی دیر میں سماعت کرے گی۔


سی اے اے کے خلاف کیرالہ کانگریس آج سپریم کورٹ میں داخل کرے گی عرضی

کانگریس لیڈر اور کیرالہ میں اپوزیشن لیڈر رمیش چینیتھال نے شہریت قانون سے متعلق ایک عرضی سپریم کورٹ میں داخل کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ”آج ہم شہریت ترمیمی قانون ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ یہ قانون ملک کے آئین کے خلاف ہے۔ ہم آئین میں پھیر بدل نہیں چاہتے۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔“


تقریباً 144 عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت آج

پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دھرنا و مظاہرہ جاری ہے اور آج اس تعلق سے انتہائی اہم دن ہے۔ آج سپریم کورٹ میں شہریت قانون کے خلاف داخل کم و بیش 144 عرضیوں پر سماعت ہونی ہے اور سبھی کی نظریں آج کی عدالتی کارروائی پر مرکوز ہے۔ گزشتہ رات اس سماعت کے پیش نظر بڑی تعداد میں خواتین نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا بھی دیا لیکن بعد میں ان خواتین کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading