شاہین باغ اس وقت پوری دنیا میں ایک مثال بن چکا ہے۔ مثال عورتوں کی طاقت کا، مثال عورتوں کی جدوجہد کا، مثال عورتوں کی بیداری کا، مثال حقوق کی لڑائی کا، مثال ثابت قدمی کا… مجموعی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ یہ عورتیں آئین دشمن طاقتوں سے لوہا لے رہی ہیں اور ان کا حوصلہ دیکھ کر مرد حضرات انگشت بہ دنداں ہیں۔ جشن یوم جمہوریہ قریب ہے لیکن ’جمہوریت‘ کی بقا کے لیے بلا تفریق مذہب دہلی کی ہزاروں خواتین نے گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے جو تحریک چلا رکھی ہے، وہ بھی کسی جشن اور میلے سے کم نہیں ہے۔



اس عظیم الشان احتجاجی مظاہرے سے موجودہ حکومت بھلے ہی چشم پوشی کرے، لیکن تاریخ کی کتابوں میں یہ سنہرے حروف میں درج ہو چکا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے خلاف جو محاذ دہلی کی خواتین نے کھڑا کیا ہے اور جس طرح ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے دہلی آئی خواتین نے بھی شاہین باغ پہنچ کر ان کی آواز میں آواز ملائی ہے، اس نے ایک انقلاب برپا کر رکھا ہے۔ یہ کہا جائے تو قطعی غلط نہیں ہوگا کہ عورتوں و بچیوں نے اپنے آنچل کو پرچم بنا کر ظاہر کر دیا ہے کہ وہ اپنی شفقت و محبت سے گھر کو جنت بنانے کی قوت رکھتی ہیں تو اپنے عزم و حوصلے سے ظالموں کو جہنم کا نظارہ بھی کرا سکتی ہیں۔
ہاتھوں کو کپکپا دینے والی ٹھنڈ اور دانتوں کو کٹکٹا دینے والی سرد لہر کے درمیان سڑک پر رات گزارتی عورتوں کے حوصلے کا اندازہ آپ کو گھر بیٹھ کر یا اخبارات میں اس مظاہرے کی روداد پڑھ کر نہیں ہوگا بلکہ جب آپ بہ نفس نفیس وہاں پہنچیں گے تو پتہ چلے گا کہ عورتیں اور بچیاں بابا امبیڈکر کی آئین اور ہندوستان کی جمہوریت کو بچانے کے لیے کس انداز میں جہاد کر رہی ہیں۔



12 جنوری کو ایک برقع پوش ضعیف خاتون تقریباً10 سال کے بچے کی انگلی پکڑ کر شاہین باغ روڈ کی طرف تیز قدموں سے بڑھ رہی تھیں۔ چلتے چلتے جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ مظاہرہ میں شامل ہونے جا رہی ہیں، تو انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔ اور پھر جب میں نے پوچھا کہ اتنی بھیڑ اور ٹھنڈ میں جانے کی ہمت وہ کس طرح کرتی ہیں، تو کہا کہ ”جب میں نے ٹی وی میں دیکھا کہ بڑ ی تعداد میں عورتیں شاہین باغ سڑک پر شہریت قانون کے خلاف بیٹھ رہی ہیں تو میں مظاہرہ دیکھنے اپنے پوتے کے ساتھ تین چار دن پہلے یہاں آئی تھی۔ اس دن کئی گھنٹے تک یہاں بیٹھی رہی اور گھر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔“ چلتے چلتے وہ کہتی ہیں کہ ”مجھے اس دن عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک جوش کا احساس ہوا اور ایسا لگا کہ مجھے یہاں آنا چاہیے۔ پھر میں روزانہ شام کے وقت یہاں آ جاتی ہوں۔“
12 جنوری کو شاہین باغ میں بھیڑ کچھ زیادہ ہی نظر آ رہی تھی۔ دوپہر سے لے کر شام تک کئی معروف ہستیاں عورتوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے آئیں اور اپنی تقریر میں شہریت قانون و این آر سی کے خلاف لڑائی میں ان کے ساتھ رہنے کا وعدہ بھی کیا۔ کالندی کنج-سریتا وِہار روڈ پر واقع شاہین باغ بس اسٹینڈ کے پاس شام ہوتے ہوتے عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں کی تعداد بھی بہت تیزی کے ساتھ بڑھنے لگی اور حیرانی اس بات کو دیکھ کر ہو رہی تھی کہ مظاہرے میں شامل کئی لوگ واپس لوٹ رہے تھے لوگوں کی آمد کا سلسلہ اتنا تیز تھا کہ بھیڑ میں منٹ در منٹ اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا۔
رات کے 11 بجے بھی کہیں ’شہریت قانون واپس لو‘ کا نعرہ لگ رہا تھا تو کہیں ’وی وانٹ جسٹس‘ کی آواز بلند ہو رہی تھی، کہیں ’ہم کیا چاہیں… آزادی‘ کا شور تھا تو کہیں ’انقلاب زندہ باد‘ کی صدا گونج رہی تھی۔ شاید 10 بج رہے ہوں گے جب ایک شخص بچے کو گود میں لیے اور بھیڑ کو چیڑتا ہوا اس مقام پر پہنچا جہاں عورتوں کو جانے کے لیے ایک خاص راستہ بنایا گیا تھا۔ اس شخص نے اپنی بیوی کو کچھ کہتے ہوئے اس راستے پر بھیج دیا اور بچے کو خود گود میں لیے ایک کنارے میں کھڑا ہو گیا۔ میں دھیرے دھیرے ان کی طرف بڑھا اور کہا کہ آپ لوگ بڑا کام کر رہے ہیں جو اپنی خواتین کو یہاں احتجاج میں شامل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں۔ میری بات سن کر وہ مسکراتے ہیں اور لاﺅڈ اسپیکر کے شور کے درمیان تیز آواز میں مجھ سے کچھ باتیں کہتے ہیں۔ بات بہت صاف سنائی نہیں دے رہی تھی لیکن اتنا اندازہ ضرور ہوا کہ ایک دن محترمہ نے ان سے پوچھا کہ کیا انھیں بھی اس مظاہرے میں شریک نہیں ہونا چاہیے؟ جواب میں وہ کھڑے ہو گئے اور کہا کہ ”چلو چلتے ہیں۔“
بہر حال، ایک دن قبل 11 جنوری کو جب میں ساڑھے گیارہ بجے شب مظاہرے کے مقام پر پہنچا تھا تو اس وقت بھی ہزاروں کی تعداد میں خواتین موجود تھیں۔ پنڈال کے نیچے باپردہ خواتین بہت منظم انداز میں بیٹھی ہوئی تھیں اور اسٹیج پر مشاعرہ جاری تھا۔ ایسا لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ٹھنڈ کا موسم ہے اور رات کے 12 بجنے والے ہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک خاتون نے کچھ دیگر خواتین کو اشارہ کیا اور پھر تقریباً 15-12 خواتین اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر پنڈال سے نکل گئیں، پھر اچانک درجن بھر دوسری خواتین پنڈال میں آ کر ان خالی مقامات پر بیٹھ گئیں۔ اسی طرح تین چار مرتبہ میں نے دیکھا کہ کسی کے اشارے پر کچھ خواتین اپنی جگہ سے اٹھ جاتی ہیں اور پھر کچھ ووسری خواتین ان خالی جگہوں پر آ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے چھوٹے چھوٹے گروپ بنا کر خواتین آتی ہیں اور پھر ایک گروپ وہاں سے نکلتا ہے تو دوسرا گروپ ان کی جگہ پر بیٹھ جاتا ہے۔ میں دیکھ کر حیران تھا کہ سب کچھ کتنا منظم ہے۔ نہ کوئی ہنگامہ، نہ لڑائی جھگڑا۔ مشاعرہ جاری تھا، رات کے 1 بج گئے تھے لیکن وہاں کسی کی آنکھ میں نیند نہیں تھی۔ نیند رہتی بھی کیسے، حاکموں نے تو نیند حرام کر رکھی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نیند تو ان باعزم خواتین نے حاکموں کی بھی حرام کر دی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-