دینی وملی اتحاد کی بہترین مثال – پتھر بازی سے چند گاڑیوں کو نقصان لیکن معاملہ کو فوری کنٹرول کرلیا گیا
اکولہ…(نظام ساجد ) این آر سی اور مذہبی بنیاد پرشہریت ترمیمی قانون کی مخالفت میںملک گیر احتجاج کے سلسلہ جاری ہے۔ ضلع اکولہ میں تحفظ شریعت قانون کمیٹی کی آواز پر پورے ضلع سے تقریباً پچاس ہزار سے زائد مسلم عوام کرکٹ کلب میدان میں مجتمع ہوئے جس میں دیگر مذاہب کے افرادکی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

تحفظ شریعت قانون کمیٹی نے کرکٹ کلب میدان پر ضلع کی سے عوام سے این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کے مظاہرہ میں شرکت کی درخواست کی تھی۔جس میں پچاس ہزار سے زائد مسلم عوام نے شرکت کی۔مجتمع عوام سے دینی وسماجی تنظیموں کے مختلف ذمہ داران نے خطاب کیا ۔اور این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کیخلاف نعرے بازی کی گئی ’’بھارت کسی ایک ذات یا مذہب کا ملک نہیں ہے تمام کو برابری اور انصاف دلانے کی یہ لڑائی ہے۔کرکٹ کلب میدان ہندو مسلم اتحاد کے نعروں سے بھی گونج اٹھا۔اس مظاہرہ میں ڈاکٹرس،ایڈوکیٹس،ایم آر،و تعلیمی اداروں سے جڑے سبھی افراد موجود تھے۔حالات کے پیش نظر پولیس نے بھاری پولیس تعینات کی تھی پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہوچکا تھا۔

ٹ

رافک کنٹرول کے پختہ انتظام کے ساتھ احتجاج پر ڈرون کیمرہ سے نظر رکھی گئی۔احتجاج کے اخیر میں مفتی اشفاق صاحب کے ذریعے عوام سے عہد لیا گیا کہ ہم بھارت کے لوگ این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون کو رد کرتے ہیں اس کا مکمل بائیکاٹ کرینگے ،مذہب کی بنیاد پر بنائے گئے اس قانون کو دستور ہند پر حملہ سمجھتے ہیںاور این آر سی کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائینگے،این آر سی میں اپنے کوئی دستاویزات پیش نہیں کرینگے سرکار چاہے جو کرلے ہم اپنے اس آندولن کو اس وقت تک جاری رکھینگے جب تک سرکار شہریت ترمیمی قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔
