مودی جی کی سبھا اور ملک کے موجودہ حالات : از قلم : محبوب عالم عبدالسلام

آج دہلی کے رام لیلا میدان میں وزیر اعظم نریندر مودی کا سبھا تھا، ان کے سبھا میں بی جے پی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی، سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور بھاری تعداد میں پولیس کے نوجوان بھی تعینات تھے۔ مودی جی نے رام لیلا میدان میں جو بیان دیا پرانی روایات کی طرح شوخ و مزاح سے لبریز بیان تھا، ان کے بیان میں مسلمانوں کے تئیں ایک طرح کی دھمکی بھی نظر آئی، انھوں نے مسلمانوں کو جھوٹی تسلی و دلاسے بھی دیے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے، شہریت ترمیمی ایکٹ دراصل ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں مظلوم ہندو، سکھ پارسی وغیرہ ہیں۔ انھوں نے گاندھی جی کا بھی حوالہ دیا کہ گاندھی جی نے پاکستان کے ہندوؤں سے کہا تھا کہ اگر تمھیں اُس ملک میں کسی دقت کا سامنا کرنا پڑے تو ہمارے ملک کے دروازے تمھارے لیے ہمیشہ کے لیے کھلے ہیں۔ ان کے دھمکی آمیز بیان سے یہی لگ رہا ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ قانون اتنی جلدی منسوخ ہونے والا نہیں، اس کے لیے احتجاج کی تحریک کو مزید منظم اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آین آر سی پر ابھی تک پارلیمنٹ میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور ہندوستان کے رہنے والے مسلمانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، حالاں کہ یہ سفید جھوٹ اور طفل تسلی کے سوا کچھ نہیں۔

سی اے اے اور این آر سی (جو کہ ابھی ملک پورے ملک میں نافذ نہیں کیا گیا) کے خاتمے کے لیے جب تک ملک گیر احتجاج نہیں کیا جائے گا، تمام اپوزیشن سیکولر پارٹیوں کے لیڈران اور انصاف پسند ہندو، مسلمانوں کے ساتھ آکر منظم طور پر اس کی مخالفت نہیں کریں گے تب تک یہ ظالم حکمران کالے قانون کو واپس نہیں کریں گے۔ اسی طرح عالمی سطح پر بھی اگر ان پر دباؤ ڈالا جاتا تو شاید ان کے اندر کچھ نرمی پیدا ہوتی، ابھی تک ملک کے مختلف طبقات کے لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، مختلف شہروں میں سینکڑوں لوگوں پر لاٹھیاں چارج کی گئیں، گیس کے گولے داغے گئے، پولیس اہلکار نے لوگوں کو بے رحمی سے مارا، متعدد افراد زخمی جب کہ خبروں کے مطابق سولہ سے زائد افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے، مگر پھر بھی حکومتِ وقت کو چیخ و پکار، آہ و بکا سنائی نہیں دے رہی ہے۔

مودی جی کی کفش بردار میڈیا بھی مظاہرین کو موردِ الزام ٹھہرا کر ان پر تشدد پھیلانے اور ماحول خراب کرنے کا الزام عائد کر رہی ہے۔ آج بھی ملک کے مختلف صوبوں کے اندر شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف پرُ امن مظاہرے ہوئے، راجستھان کے جے پور کے اندر تقریباً دس ہزار لوگوں نے نہایت ہی شانتی اور امن کے ساتھ ہاتھوں میں ترنگا لے کر احتجاج کیا، نعرے بازی سے بھی دور رہے، مگر گودی میڈیا کے کسی چینل نے اس کو کوریج نہیں کیا، کئی جگہوں پر اس بل کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا، تشدد آمیز نعرے بازی کی گئی، لیکن ان پر کوئی سوال نہیں؟ ان کے لیے کوئی دھارا 144 نہیں؟ ہاں پورا دن بکے ہوئے ٹی وی چینلوں پر مودی جی کے سبھا کو ہی کوریج کیا گیا۔

قابلِ فخر اور مبارک باد کے مستحق ہیں وہ نوجوان، عورتیں، بوڑھے اور ننھے منے بچے جو میدان میں اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی قیمت پر بھی اس قانون کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کے حوصلوں کو بلند کیا جائے، زخمی ہونے والے نوجوانوں کی امداد کی جائے اور احتجاج کو مذہبی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔ دنشواران اور ماہرین کا مشورہ یہ بھی ہے کہ اب ہمیں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے یہ کوشش بھی کرنی چاہیے کہ معتبر وکلا کی مدد سے اس کالے قانون کے خلاف زیادہ سے زیادہ عرضیاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں داخل کروانی چاہیے، کیوں کہ کورٹ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اگر عرضیاں داخل کی گئیں تو کورٹ کو عوام کے حق میں ہی فیصلہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح قوم کے بہت سے قائدین جو حکومت کا آلۂ کار بن کر ہنوز خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اپنے مفاد کے لیے بولنے سے ڈرتے ہیں، ایسے میر جعفروں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، اور اِس کالے قانون کے خلاف لکھنے، بولنے اور احتجاج کرنے والوں کو ناعاقبت اندیشی کا طعنہ دینے والوں سے بھی دور رہا جائے تو بہتر ہے۔ اللہ آسانی کا معاملہ فرمائے۔ آمین!

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading