بنگلورو: پولیس نے جمعرات کے روز یہاں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرہ کر رہے ممتاز مؤرخ رام چندر گوہا سمیت کئی لوگوں کو حراست میں لے لیا۔
بااختیار ذارئع کے مطابق پولیس نےرام چندر گوہا کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ ایک الیکٹرانک میڈیا سے بات کر رہے تھے اور سی اے اے کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔ اس دوران گوہا مہاتما گاندھی کا ایک پوسٹر لئے ہوئے تھے۔

دریں اثنا، میسورو، بنگلورو، تماكرو، بلاری، كلابرگي، منگلرو سمیت ریاست کے مختلف مقامات پر سی اے اے کے خلاف احتجاجی مارچ نکالے گئے ہیں۔ پولیس نے ریاست کے مختلف حصوں میں حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود مذکورہ ایکٹ کے خلاف مظاہرہ ہورہے ہیں۔
@Ram_Guha at a peaceful protest in Town Hall #Bengaluru: our paranoid rulers in Delhi are scared#Section144 #CAAProtest pic.twitter.com/JQ26G4ienj
— Arpita Raj (@arpitaraj92) December 19, 2019
اس دوران وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے ریاست کے لوگوں سے مظاہروں کے دوران کسی طرح کا تشدد نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ یدی یورپا نے جمعرات کی صبح اعلیٰ پولیس حکام کے ساتھ میٹنگیں کی اور ریاست میں امن اور قانون کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے گوہا کو حراست میں لینے کی سخت مذمت کی ہے۔ ممتا بنرجی نے اپنے ٹویٹ میں کہا، ’’یہ حکومت طالب علموں سے ڈر گئی اور اب یہ سرکار ملک کے ممتاز تاریخ داں کے سی اے سے اور این آر سی پر میڈیا سے بات چیت کرنے اور گاندھی جی کا پوسٹر دیکھ کر ڈر گئی۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’میں رام چندر گوہا کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کرتی ہوں اور زیرحراست تمام لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ ‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
