شولاپورمسلم نوجوانوں کے بھو پال مقدمہ میں ملز مین کے بیا نات مکمل

آخری بحث20؍ نومبر کو ہو گی ،دسمبر کے آخر تک فیصلہ آنے کی امید

بھو پال۔14؍نومبر( پریس ریلیز) دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث اور سیمی سے تعلق کے الزام میں شولاپور سے گرفتار4 مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی گواہیاں اسپیشل سیشن کورٹ بھوپال میں مکمل ہو نے کے بعددفعہ313کے تحت ملز مین کے بیا نات بھی مکمل ہو چکے ہیں آخری بحث 20؍ نومبر کو عمل میں آئے گی اور اس مہینہ کے آخر میں فیصلہ آنے کی امید کی جا رہی ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے لیگل سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہورخان نے د ی ہے۔اس مقدمہ کی پیروی کرنے والے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے وکیل ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان بتایا کہ اس مقدمے میںکل 17؍مسلم نوجوان ماخوذ تھے ،جن میں سے پانچ کا تعلق شولاپور سے تھا اور بقیہ کا تعلق ملک کے دیگر مقامات سے یہ تمام ملز مین بھوپال کی سینٹرل جیل میں قید تھے ان میں سے8؍کا دو سال قبل2016 ء میں 31؍اکتوبر کو بھوپال سے قریب ایک گاؤں میں انکاؤنٹر کردیا گیا تھا۔ جن میں شولاپور کا خالد مچھالے نامی ملزم بھی تھا۔ اس انکاؤنٹر کی اعلیٰ سطحی تفتیش کے لئے جمعیۃ علماء سپریم کورٹ رجوع ہو چکی ہے۔خالدمچھالے کا انکاؤنٹر میں قتل کے بعد بقیہ چار ملزمین کے مقدمات کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کررہی تھی اور تیزی سے سماعت آگے بڑھ رہی ہے ۔یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اسی بھوپال سینٹرل جیل میںلکڑی کی چابھی وچادر کی سیڑھی کی مدد سے فرار ہونے کے الزام میں جن ۸؍مسلم نوجوانوں کا انکاؤنٹر کیا گیا تھا ، اس معاملے میں مدھیہ پردیش حکومت کا رویہ نہایت معاندانہ رہا ہے ۔ حکومت نے اس کی تفتیش کے لئے ایک ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایک نفری کمیشن مقر ر کیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں حکومت اور پولیس کو کلین چٹ دیدی ہے اور پولیس کے موقف کی تصدیق کی ہے۔ اس کی کسی آزاد اور غیرجانبدار ا نہ یجنسی کے ذریعے تفتیش کے لئے جمعیۃ علماء کو شاں ہے ۔بھو پال سیشن عدالت میں جاری کیس آخری مر حلہ میں ہے ملز مین کے بیا نات بھی مکمل ہو چکے ہیں آخری بحث ۲۰؍ نومبر کو عمل میں آئے گی اور دسمبر کے آخر تک اس مقدمہ کا فیصلہ آنے کی امید ہے۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں پولیس اور اے ٹی ایس کی جانب سے اس قدر دھاندھلی کی گئی ہے کہ قانون کا معمولی شد بد رکھنے والا بھی اس معاملہ کو اچھی طرح سمجھ جائے گا۔ اس کے باوجود اس مقدمے کو الجھا کر رکھا گیا تھا، اس وقت مقدمہ کی تمام عدالتی کار وائیاں تقریبا مکمل ہو چکی ہیں جلد ہی اس کا فیصلہ آنے کی توقع ہے جس میں ہمیں قوی امید ہے کہ نہ صرف شولاپور کے ملزمین بلکہ دیگر تمام ملزمین کو بھی انصاف ملے گا اور ان کی رہا ئی عمل میں آئے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading