ذوالقرنین احمد
بی جے پی حکومت کے مرکزی اقتدار میں آنے کے بعد ایسی حکومت کر رہی ہے جیسے کہ ملک کوئی کھلونا ہے اور عوام کوئی ناسمجھ بچے کی طرح ہے جسے لولی پاپ دیکر خاموش کردیا جاتا ہے۔ بی جے پی اپنے اقتدار کے ساڑھے چار سال میں کیے گئے وعدوں میں پوری طرح جھوٹی ثابت ہوئی اپنی ناکامیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنی حکومت ہاتھ سے جاتے ہوئے دیکھائی دینے لگی، ملک میں اپوزیشن نے مودی حکومت پر سوالات کھڑے کردیے تھے رافیل ڈیل گھٹالہ، کالا پیسہ کی واپسی، ہر ہندوستانی کے اکاؤنٹ میں ۱۵ لاکھ، رام مندر کی تعمیر، لیکن ملک میں روپیہ کی گرتی قیمت ، مہنگائی بےروزگاری، ملک کی اکانامیک کی خستہ حالی،خواتین پر بڑھتے جرائم، وغیرہ جیسے بہت سے سوالات کے جوابات مودی حکومت کے پاس موجود نہیں ہے ان تمام مدعو کو دبانے کیلئے حکومت نے ملک کی سلامتی کے ساتھ بھی کھلواڑ کیا یہاں تک کے فوج کا استعمال کیا گیا اور اس کا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں بکاؤ میڈیا نے حکومت کا بڑا ساتھ دیا اور دے رہا ہے پلوامہ حملے کے بعد سے مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن اور عوام نے شدید احتجاج کرنا چاہیے تھا لیکن دونوں پر حکومت نے نقب لگا دی کشمیر میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور ہندوستانی دیش بھکتی دیکھانے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں مصروف تھا اصل ذمہ دار تو حکومت تھی کے اتنی زیادہ تعداد میں ہمارے نوجوانوں پر کیسے قاتلانہ حملہ کیا گیا
حکومت کو سوالات کے گھرے میں لینے کی ضرورت تھی لیکن ماحول کچھ اسطرح بنا دیا گیا تھا کہ عوام کا کچھ پوچھنا تو دور بولنے پر بھی جیسے پابندی عائد کردی گئی تھی کوئی کچھ بولے تو وہ دیش دروہی، شاید بی جے پی حکومت کو پلوامہ حملے کا اسلے بھی فائدہ حاصل ہوا کیونکہ کوئی کچھ بول ہی نہیں سکتا تھا، اور پھر پاکستان میں گھس کر ۳۰۰ دہشت گردوں کو مار گرانے والی بات جس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور طیارے میں سے صرف اکسٹرا لوڈ نیچے پھینک دیا گیا تھا جس سے کچھ درخت جل گئے اور پھر بھی ملک کی نادان عوام اور بکاؤ میڈیا مودی حکومت کے گن گانے لگ گئی اور حکومت نے سراسر جھوٹ کا سہارا لے کر کریڈیٹ حاصل کرنا شروع کردیا بی جے پی کے کارکنوں نے جگہ جگہ بینرز لگانے شروع کردیے ، بھارتی پائلٹ ابھینندن کو پاکستانی فوج کے گرفتار کرنے کے بعد بھی حکومت اور وزیر دفاع نے انکی واپسی کیلئے کوئی پہل نہیں کی بلکہ پاکستانی حکمران عمران خان نے پائلٹ ابھی نندن کو ہندوستان کے سپرد کیا جس پر ابھی نندن کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک کی میڈیا کسی بھی بات کو بڑھا چڑھا کر مرچ مسالہ لگا کر پیش کرتی ہیں حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مودی حکومت اپنی حکومت بچانے کیلئے کس حد تک گر سکتی ہے آج ہی وزارت دفاع نے سپریم کورٹ کو یہ جواب دیا کے رافیل ڈیل کے فائل گم ہوگئی ہے یہ کیسی بےتکی بات ہے اتنے سالوں سے کبھی ایسے نہیں ہوا ہے یہ تو وہی فلمی دنیا والی بات ہوگئی ویلن کو بچانے کیلے راستے سے مخالف وکیل کو گولی مارو دی جاتی ہے یا ایکسڈنٹ کرادیا جاتا ہے ۔ رافیل ڈیل گھٹالے کے معاملے پر حکومت کو کانگریس کے صدر راہل گاندھی پہلے ہی گھر چکے ہیں یہاں پر کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کو کیوں جبراً چھٹی پر بھیجا گیا تھا، سپریم کورٹ نے آلوک ورما کو عہدے پر بحال کرنے کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر سلیکشن کمیٹی نے کیوں انہیں عہدے پر بحال نہیں کیا اور ۴۸ گھنٹے میں انکی پوسٹ تبدیل کردی گئی تھی جس پر جانے سے انہوں نے انکار کردیا تھا.
حکومت کو کیوں آلوک ورما سے پریشانی تھی جب کہ وہ خود جنوری کے آخری ہفتے میں رٹائرڈ ہونے والے تھے جی ہاں پریشانی تھی کئی وہ رافیل ڈیل کی تفتیش کا حکم صادر نہ کردیں اس لیے انہیں ٹارگیٹ کیا گیا مودی حکومت ہر اس شخص کو نشانہ بنارہی ہے جو حکومت سے سوال کرتا ہے وہ اپنی کرسی بچانے کیلئے لاشوں کا ویپار کر رہے ہیں جس کے پیچھے سنگھی دہشت گردوں کا ہاتھ ہے اور ملک کے پورے سسٹم پر سنگھی دہشت گردوں کو فائز کرنے کی کوشش جاری ہے۔ آگے دیکھئے اور کیا کیا گل کھلاتی ہے یہ حکومت۔